جواب :۔ ڈوئی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں خداکا رسول ہوں اور کہ خدانے مجھے بذریعہ الہام یہ بتایا ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا اور خود خداتھا اور کہ خود مسیح نے مجھے بحثییت خداہونے کے ایسا الہام کیا ہے اور کہ (نعوذ باللہ )اسلام تباہ ہوجاوے گا اورکہ (نعوذ اللہ )آنحضرت ﷺ جھوٹے نبی تھے ۔چونکہ ہمیں خدانے بذریعہ اپنے الہام کے یہ بتایا ہے کہ مسیح نہ خدا‘نہ خداکا بیٹا بلکہ صرف ایک پاکباز انسان اور رسول تھا اور کہ ڈوئی اپنے اس دعویٰ رسالت میں کاذب ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ہی وقت میں اسی ایک ہی خداکی طرف سے ایک دوسرے کے بالکل متضاد اور مخالف راہوں پر چلنے والے دورسول موجود ہو ں ۔ پس چونکہ اس طرح سے دنیا میں فساد پیداہوتا اورحق وباطل میں امتیاز اٹھ جاتا ہے ہم نے اسے صادق اورکاذب کے فیصلہ کرنے کے واسطے چیلنج دیا۔اگرچہ مسیح کو ابن اللہ اور اورپھر واحد یگانہ خداماننے والے لوگ دنیا میں بہت پائے جاتے ہیں مگر ان پر ایسا افسوس نہیں کیونکہ وہ خیالات اورعقائد صرف پرانے غلط اورمصنوعی قصے کہانیوں کی بناء پر ہیں اور وہ لوگ منقولات کے پیروہیں ۔ مگر ڈوئی نے تو اپنے اس دعویٰ سے خداپر ایک افتراء کیا اوراس طرح سے خداپر تہمت باند ھ کر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا تھا اوروہ توکہتا تھا کہ خود خدانے مجھے ایسا بتایا ہے اوربحثییت ایک خداکے رسول ہونے کے وہ مسیح کی انبیت اورالوہیت کی منادی کرکے لوگوں کو گمراہ کرتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے اس فیصلہ کے واسطے چیلنج دیا۔
سوال :۔ڈوئی نے تو ایک جھوٹا دعویٰ کیا تھا کیونکہ وہ اپنی صداقت نہیں کرسکا اور بائیبل میں لکھا ہے کہ آخر زمانے میں جھوٹے نبی آئیں گے تو پھر آپ کے دعویٰ کی سچائی کی کیا دلیل ہے ؟
جواب :۔فرمایا :۔
بائیبل میںجہاں یہ لکھا ہے کہ جھوٹے نبی آئیں گے وہاں سچے نبی کے آنے کی نفی تونہیں کی گئی ۔یہ تونہیں لکھا کہ سچانہیں آئے گا بلکہ جھوٹے نبیوں کا آنا خودبخود اس امر کی صراحت کرتا ہے کہ ان میں سچا بھی ہوگا۔
سوال :۔حضرت مسیح نے مردے زندے کئے تھے چنانچہ ایک شخص جس کانام ۔اسے زندہ کرنا ثابت ہے اوربائیبل حضرت مسیح کی وفات کے بہت جلد بعد ہی ضبط تحریر میں لائی گئی اوربجز حضرت مسیح کے کسی اورکامردے زندہ کرنا ثابت نہیں ہے۔پس یہ شہادت ان کے دعویٰ کی دلیل اورثبوت کے واسطے کافی ہے۔
جواب :۔مردوں کا زندہ ہونا آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر بھی قرآ ن شریف میں مذکور ہے مگر ہم آنحضرت
۱؎ یہاں نام درج نہیں (مرتب )