ہم اس قسم کی سردردی کو ہر گز پسند نہیں کرتے ۔اگر ان کو اس قسم کی تحقیق کا خیال ہے تو کیوں خود اپنے ہاتھ سے درخواست نہیں کی۔ اصل میں ان لوگوں میں ایک قسم کا مخفی کبرہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ایسا کرتے ہیں یہ لوگ رعایا پر تو حکومت کرتے ہیں مگر اس طرح سے خداپر بھی حکومت کرنا چاہتے ہیں ۔یہ نہیں جانتے کہ خداکے ماموروں میں کبریائی ہوتی ہے کیونکہ وہ ظل الہٰی ہوتے ہیں ۔خداسے ان کو تواضع اوربندوں سے لاپروائی ہوتی ہے بجز اس کے کہ ان لوگو ں میں سے کوئی شخص خود توجہ کرے اورپھر خدابھی اس کے لئے دل میں جوش پیدا کردے ۔خواہ مخواہ بناوٹ سے توجہ کرنا بھی ایک قسم کی بت پرستی ہے ۔خداکے مامور کسی فرد واحد کی خصوصیت کرنا بھی شرک جانتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں میں باریک درباریک رنگ میں کبر مخفی ہوتا ہے ۔۱؎
۷اپریل ۱۹۰۸ئ
10.1/2بجے دن
ایک امریکن میاں بیوی سے عیسائیت اوراپنی صداقت پر گفتگو
۷اپریل ۱۹۰۸ئ کو ایک انگریز اورلیڈی جنہوں نے اپنے آپ کو امریکہ (شکاگو)کے رہنے والے ظاہر کیا اور کہ وہ سیاحت کی غرض سے ملک بہ ملک پھر رہے ہیں اورہندوستان میں بھی یہاں کے پولیٹیکل اور ریلیجس حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے واسطے آئے ہیں لاہور سے بہمر اہی ایک سکاچ انگریز قادیان میں قریب دس بجے کے پہنچے ۔مسجد مبارک کے نیچے دفتروں میں ان کو اچھی طرح سے بٹھایا گیا اور چونکہ انہوں نے حضرت اقدس سے ملاقات کرنے کی درخواست کی اس لئے حضرت اقدس بھی وہیں تشریف لے آئے اورسلسلہ گفتگو مترجم کے ذریعہ سے یوں شروع ہوا۔
(مترجم کا کام اول ڈپٹی علی احمد صاحب نے اورپھر جناب مفتی محمد صادق صاحب نے کیا )
سوال :۔ہم نے سنا ہے کہ آپ نے مسٹر ڈوئی کو کوئی چیلنج دیا تھاکیا یہ درست ہے ؟
جواب :۔ہاں یہ درست ہے ہم نے ڈوئی کو چیلنج دیا تھا ۔
سوال :۔کس بناء پر آپ نے اس کو چیلنج دیا تھا ؟
۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۹ صفحہ ۲مورخہ ۲۲اپریل ۱۹۰۸ئ