ان کی پروانہیں کی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ جو ہم مانگتے ہیں وہ ہمیں دیا جاوے۔
یادرکھو یہ بڑی بھاری جرات اوربے ادبی ہے ۔خدابڑابے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہی کیا ہے ۔ اگر ساری دنیا بھی اس سے منہ پھیرلے تو اس کا کچھ نہیں بگڑ تا ۔ کسی کی خواہشات کا ماتحت ہوکر اور مجبور ہوکر وہ نہیں چلے گا۔
تسلی پانے کیلئے دعاکی ضرورت
نماز ظہر کے بعد پھر پیر صاحب موصو ف کو بلا کر نہایت نرمی ‘اخلاق اورمحبت بھرے الفاظ سے یوں فرمایا کہ :۔
اصل بات یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ جب انسان کے دل کی حالت صاف ہوتی ہے اورخداکو جودلوں کے حالات سے واقف ہے اس کے لئے کوئی امر ہدایت کا منظور ہوتا ہے توخدااپنے مامورین کے دل میں اس شخص کے لئے ایک خاص جوش اورتوجہ پیدا کردیتا ہے اورالہام خفی سے مامور کو اس کی طرف متوجہ کردیتا ہے مگر جب یہ ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کو سائل کی حالت تقویٰ اورسچی تڑپ معلوم ہوجاوے ۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ حضور الہٰی میں سائل کا سوال قابل قبول ہوگیا ہے ۔پس آپ اس امر کے لئے خداتعالیٰ کے حضور دعا کریں اورتوبہ استغفار سے کام لیں ۔ممکن ہے کہ آ پ کی دعاکی وجہ سے خداتعالیٰ کوئی ایسے سامان مہیا کردے جس سے آپ کے واسطے تسلی کے سامان مہیا ہوجاویں ۔ اس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ وہ بڑا بے نیا ز ہے اورانسان اس کا ہر آن محتاج ہے اوراسی کی مدد کا محتاج ہے ۔
اس کے بعد حضرت اقدس تشریف لے گئے ۔ ۱؎
۴اپریل ۱۹۰۸ئ
خداکے ماموروں میں کبریائی ہوتی ہے
کسی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں اس قسم کی ایک درخواست کی تھی کہ یہاں کے رئیس اعظم کو حضرت اقدس کے حالات کی تحقیق کاشوق ہے لہٰذا اگر ان کی خدمت میں براہ راست اس قسم کی کوئی تحریر بھیج کر تحریک کی جاوے تو خالی ازفائدہ نہ ہوگی ۔
اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۴صفحہ ۱تا ۳ مورخہ ۲اپریل ۱۹۰۸ء