(الانعام :۳۸)قل انما الایات عند اللہ (الانعام :۱۱۰)اللہ تعالیٰ نے اقتراح کو منع کیا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اقتراح کرنے والے لوگ ہمیشہ ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں کیونکہ خداتعالیٰ نہ ان کی مرضی اورخواہشات کا تابع ہوتا ہے اور نہ و ہ ہدایت پاتے ہیں ۔ دیکھوجب نشانات اور معجزات اقتراحی رنگ میں طلب کئے گئے جب ہی یہی جواب ملاقل سبحان ربی ھل کنت الا بشرارسولا(بنی اسرائیل :۹۴) خداتعالیٰ کے اب بھی ہزاروں نشانات ہیں جو گننے سے گنے نہیں جاسکتے اورہماری کتابوں میں تفصیل سے درج ہیں ۔ان کو دیکھا جاوے کیا وہ قابل قبول اورخدائی شان وشوکت کا رعب اپنے اندر رکھتے ہیں یا کہ کسی انسان کی طاقت میں ان کا امکان ہے ؟پھر جو نشانات خداتعالیٰ نے خود اپنی مرضی سے اورخوشی سے دئیے ہیں ۔ان سے تسلی تشفی نہ پاکر اپنی تسلی تشفی کے واسطے خاص نشانات طلب کرنا نہ تو قرآن کریم میں ثابت ہے اورنہ کسی پہلے نبی کی زندگی میں ملتا ہے پس ہم سے کیون منہاج نبوت سے باہر سوال کیا جاتا ہے ایسا ہرگز جائز نہیں ۔ پہلے سوال کرنے والوں اورمعجزات مانگنے والوں کو دیکھ لو ان سے کیا معاملہ ہوا۔وہی اب موجود ہے ۔ ہم نے خدائی کا دعویٰ تونہیں کیا ۔نشان خداتعالیٰ کے ہاتھ میںہیں۔ جب اورجس قسم کے وہ چاہے اپنی مرضی سے ظاہر کرے۔ وہ کسی زید بکر کی خواہشات کا پابند اور ماتحت نہیںہے اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا انسان کبھی کامیا ب بھی ہوا ہو ۔وہی قرآن شریف موجود ہے اسمیں دیکھ لیا جاوے ۔خداتعالیٰ کبھی مجبور نہیں ہوا۔ اورنہ وہ مجبور ہوکر ایسا کیا کرتا ہے بلکہ جب وہ چاہتا ہے اپنی مرضی سے مانگنے والوں کی خواہشات سے ہزاردرجہ بڑھ بڑھ کر بھی نشان دکھا سکتا ہے اوردکھاتا ہے ۔اس کو کسی خاص انسان کی پروانہیں ہواکرتی کہ یہی شخص ہدایت پاوے گا تویہ کارخانہ چلے گا۔ آپ بھی مسلمان ہیں بھلا آپ نے بھی کہیں قرآن شریف میں اس قسم کا مضمون پایا ہے کہ کبھی کسی نے اقتراحی رنگ میں معجزہ مانگا ہو اور پھر اس نے پابھی لیاہو۔ ہرگز ایسا ثابت نہ ہوگا کہ کسی نے اس طرح مانگا اورپھر پالیا ہو۔پس اگر ایسا ثابت نہیں ہوتا تویہ ایک قسم کی جرات اوربے ادبی ہے اس سے مسلمان کو بچنا چاہئیے ۔پس جس طرح سے آنحضرت ﷺ نے نشان مانگنے والوں کو کہا اورجواب دیا تھا۔ ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کہ نشان خداکے پاس ہیں وہ جس طرح کے چاہے او رجس وقت چاہے دکھا سکتا ہے ۔نشان دکھانا ہمارا کام نہیں ۔خداتعالیٰ کے دکھائے ہوئے نشانات ہزاروں موجود ہیں۔ ہاں البتہ ان میں یہ بات ضرور ہے کہ وہ کسی کے خاص کرکے مانگے ہوئے نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو خداتعالیٰ نے خود اپنے ارادے اورخوشی سے دکھائے ۔ میں توایسے شخص کے اسلام میں ہی شک کرتا ہوں جو مسلما ن کہلا کر قرآن شریف اورسنت رسول سے باہر کوئی سوال کرتا ہے اگر سعادت ورشد کا انسان میں کچھ بھی حصہ ہو اور حق طلبی کی پپاس اورسچی تڑپ موجود ہو توکیوں خدائی نشانات میں غور نہیں کی جاتی اوران کو کیوں قبول نہیں کیا جاتا ؟کیا وہ نشانات باسی ہوگئے ہیں کہ