امتحان کے واسطے وقتاً فوقتاً واردہوں ۔ ان کی برداشت کرلیتا ہے اوراپنی طرف سے کوئی خاص حدود اورشرائط نہیں مقرر کرتا بلکہ خداپر چھوڑ دیتا ہے توخدااس کو اپنے فضل سے وہ کچھ دکھادیتا ہے جس سے اس کا ایمان قوی اورمضبوط ہوجاتا ہے اورسلیم قلب حاصل ہوجاتا ہے مگر جو لوگ ضد کرتے ہیں او رخدا کو اپنے ارادوں کے ماتحت چلانے کی خواہش کرتے ہیں وہ لوگ محروم رہ جاتے ہیں اورپھر خدا ایسے لوگوں کی پرواہی کیا رکھتا ہے وہ بے نیاز ہے ۔اس کے کروڑوں بندے ہیں۔ اگر نہیں مانتا تو نہ سہی وہ بھی جہتمی گروہ میں داخل کردیا جاتا ہے خداتعالیٰ نشان دکھانے میں بندے کی خواہش اورارادے کے ماتحت نہیں ہوتا ۔ فیضان بھی استعداد پر ہوا کرتے ہیں۔ جس طرح سے اگر ایک کھایا ہوا دانہ زمین میں باقاعدہ طورسے کاشت کیا جائے تونہیں اگتا اور بارود نہیں ہوتا اسی طرح سے بدبخت لوگ جن پر فرد جرم شقاوت کا لگ چکا ہے خداتعالیٰ کے انعامات اور نشانات کے وارث نہیں ہوسکتے ۔بھلا نبی سے بڑھ کر اور کون ہوگا۔ ساراقرآن شریف تدبر سے پڑھ کر دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے فیض کے حصول کے جو سامان مقرر فرمائے ہیں ۔ انہی کی پیروی سے وہ فیضان ملے گا اور ان کی خلاف ورزی کرنے سے ہرگز ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی خداکے فیض کا وارث ہوسکے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فمنھم شقی وسعید (ھود :۱۰۶)یعنی انسان بلحاظ اپنی استعدادوں کے دوطرح کے ہیں۔ایک تو وہ گرو ہ جس کو ایسے سامانوں کے جمع کرنے اور ایسے اعمال بجالانے کی توفیق ہوتی ہے جو فیوض وبرکات الہٰی کے انوار کے جاذب ہوتے ہیں اوروہ سعید کے نا م سے پکارے جاتے ہیں ۔ دوسرے وہ جن کے اعمال بد اورخبث باطن انکی ترقیوں کے آگے روک ہوکر ان کو اعمال صالحہ اور خدائی فیوض وبرکات سے دورومہجور کردیتے ہیں اب بھی دیکھ لوکہ خوب زور سے تائیدات سماوی اورنشانات کی ایک بارش ہورہی ہے اورایک سیلاب کی طرح ترقی ہورہی ہے ۔ مگر اس میں بھی وہی داخل ہوسکتے ہیں جن کی روحوں میں سعادت کا حصہ ہے ۔شقی اوربدبخت لوگ باوجود ہزار ہا نشانات کے دیکھنے کے ان میں بھی وساوس شیطانی کو داخل کرکے سعادت اور قبول حق محروم رہ جاتے ہیں اورخدا کا بھی یہی منشاء ہے کہ بعض سعادت کی وجہ سے سعید اور بعض شقاوت کی وجہ سے شقی ہوکر یہ اختلاف قیامت تک برابر قائم رہے ۔پس جن کو خداتعالیٰ کا منشاء ہی ہماری جماعت سے باہر رکھنے کا ہو اس کو ہم کیسے ہدایت دے سکتے ہیں ۔
نشانات خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں
دیکھو کسی خاص شخص کی پروانہ خداکو ہواکرتی ہے اورنہ ہی اس کے رسول کسی خاص شخص کی ہدایت کے لئے زوردیا کرتے ہیں بلکہ ان کی دعائیں اور اضطراب عام خلق خدا کے واسطے ہوتے ہیں ۔ دیکھو رسول اکرم ﷺ سے بھی معجزات مانگے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا وقالو الولا نزل علیہ ایۃ من ربہ