توکیا خداپنی رضامندی کی راہوں پر چلنے والوں اوراس کی تلاش کرنے والوں سے محبت نہیں کرے گا مگر استعداد بھی ہو اس کے فیوض کے لینے کی۔ ایک گندہ پھوڑا جس میں پیپ اور گندے مواد بھرے ہوں۔ اس پر کیسے رحم کیا جاوے ۔دیکھو صحابہ ؓ نے حق فرماں برداری اوررضاجوئی اداکیا تھا اوروہ ایک عمدہ نمونہ اوراعلیٰ مثا ل ہیں۔ اس ثبوت کے واسطے انہو ں نے کس طرح اپنی جانیں قربان کردیں ‘اطاعت کی ‘خون کی ندیاں بہادیں تو وہ بھی ان کی اس حالت پرکیسا راضی ہوگیا ۔ جتنے بھی بزرگ اوراولیاء گذرے ہین وہ سب محاہدات اورریاضات میں اپنے اوقات گذرتے تھے ۔ دیکھو باوافرید صاحب اور جتنے بھی اولیاء اورابدال گذرے ہیں یہ سب گروہ ایک وقت تک خاص ریاضات اورمجاہدات شاقہ کرنے کی وجہ سے ان مدارج پر پہنچے ہیں اوران لوگوں نے بڑی سختی سے اورپورے طورسے اتباع سنت کی ہے جب جاکر ان کی مشخیت ‘ننگ وناموس اورخواہ نخواہ کی کبریائی نکلی اور وہ گویاکہ سوئی کے ناکے میں سے ہوکر نکلے ہیں جس سے ہمیشہ ایسے لوگ نکلا کرتے ہیں جب جاکر کہیں ان لوگوں کو یہ حالتیں نصیب ہوئی ہیں ۔ دعائیں بھی انہی لوگوں کی قبول ہوتی ہیں ورنہ دیکھو جس طرح سے ایک حکیم کی دوائی بجز پرہیز کرنے کے موثر نہیں ہوتی اسی طرح سے دعا کی قبولیت کابھی یہی راز ہے ۔دعا کچھ اثر نہیں کرسکتی جب تک انسان پورا اورکامل پرہیز گار نہ ہو۔ لوگوں نے بعض اولیا ء کی نسبت بعض جھوٹے قصے کہانیاں بنارکھی ہیں وہ بھی مخلوق کی راہ میں بڑابھاری پتھر اورروک ہوجاتے ہیں اوربہتوں کی ٹھوکر کاباعث ہوجاتے ہیں۔ دیکھو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی ایک قصہ ایسا گھڑرکھاہے کہ ایک چور ان کے سامنے آیا اور انہوں نے گویا ایک ہی پھونک سے اس کوولی اورقطب بنا دیاتھا ۔ یادرکھو کہ کوئی بھی بجز اپنے اوپر ایک موت وارد کرنے اورپوری اتباع سنت کے کسی خاص اوراعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا ۔ فیضان بھی استعداد پر ہوتے ہیں ہاں البتہ یہ بھی صحیح ہے کہ استعداد کے سواکچھ نہیں ہو سکتا ۔ بعض طبیعتیں اوراستعدادیں ہی اس قسم کی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہوئی ہیں اوران میں ایسا مادہ رکھا ہوتا ہے کہ نخوت ‘تکبر ‘عجب ‘پندار وغیرہ رذیل اخلاق ان سے خود بخود آسانی سے نکل جاتے ہیں اور ایک فانی اور لاشئے بن جاتے ہیں اورجس طرح سے ایک دانہ زمین میں مل کرپہلے خاک ہوجاتا ہے توپھر خدا اس کو قدرت سے بڑھاتا ہے ۔اسی طرح سے وہ لو گ بھی اول اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں کھودیتے ہیں ۔تب خداان کو پھر زندہ کرتا ہے اوربڑھاتا اور پھیلاتا ہے اوران کی قبولیت دنیا کے دلوں میں بڑھادیتا ہے ۔پس اس طرح سے جو انسا ن کل مشکلات کو جو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے