کی مگر اس وقت ان کو کون سمجھاتا۔ حضرت اقدس۔ ہاں اس وقت ان لوگوں کو سمجھانا محال تھا۔ اس وقت تو ان لوگوں کا وہ حال تھا جیسا کہ تاجروں کا قصہ ہے کہ چند تاجر کسی جگہ راہ میں جاتے تھے کہ قزاقوں نے اُن پر حملہ کیا۔ تجار کے ہمراہ ایک حکیم بھی تھا کسی نے حکیم کو کہا کہ ان کو نصیحت کرو ۔ حکیم نے جواب دیا کہ اس وقت ان لوگوں کو نصیحت کرنا بے فائدہ ہے ۔ یہ نفس پر ستی میں اندھے ہیں کہ ان کو اس وقت کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوسکتی۔ ہمارا منشاء اس لیکچر میں یہ تھا کہ اسلام کی خوبیاں بیان کی جائیں ۔ مگر افسوس ہے کہ ان لوگوں نے شرارت کی۔ شریف ۔ ان کا قصور ہی کیا ہے وہ اندھے ہیں ان کو بصیرت نہیں ۔ حضرت اقدس۔ زیادہ تر افسوس تو علماء پر ہے جو عوام کو دھوکہ میں ڈالتے ہیں۔ دیکھو اسلام پر کس قدر انحطاط کا زمانہ ہے کہ علماء کی حالت ایسی گندی ہے ۔ شریف ۔ علماء کیوں ایسا نہ کریں جبکہ ان کے واسطے ذریعہ معاش صرف اسی میں ہے ۔ آپ نے دیکھا یا سُنا ہوگا۔ آج کل امرت سر کے مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت امام ابو حنیفہ کے حق میں کیسے کیسے خراب کلمات لکھ کر اشتہار دے رہا ہے ۔ یہی علماء لوگ اسلام میں فتنہ ڈالتے ہیں۔ حضرت اقدس۔ ائمہ کے حق میں سخت کلامی کرنا بہت ہی نامناسب امر ہے ۔ جس زمانہ میں یہ بزرگ گذرے ہیں اگر وہ دین کی خدمت نہ کرتے تو ہزارہا خرابیاں پیدا ہو جاتیں۔ یہ لوگ اسلام میں بطور چاردیواری کے تھے انہوں نے جو کچھ کیا خدا تعالیٰ کے واسطے کیا اور شریر لوگوں کو حد سے بڑھنے سے بچایا۔ ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔ ان لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈالا اور بے نفس ہو کر اسلام کی خدمت کی۔ ان لوگوں کی طرح وہ نہ تھے کہ ہر وقت دُنیا کو مقدم رکھتے ۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ ان علماء کاتو یہی نمونہ کافی ہے جو ثناء اللہ نے عدالت کے اندر حضور کے برخلاف گواہی کی خاطر دکھایا ( یعنی بیان کیا کہ جھوٹ ، چوری ، زنا جو کچھ مسلمان کر لے اس کے تقویٰ میں کچھ فرق نہیں آتا۔ (ایڈیٹر) شریف ۔ ان لوگوں میں دُنیا طلبی ہے۔ دین نہیں رہا۔ دُعا کے اصول :۔ اس کے بعد شریف مرد نے اپنے بعض ذاتی امور کے واسطے دعا کے لئے حضرت کی خدمت میں درخواست کی جس پر حضرت نے فرمایا: میں آپ کے واسطے انشاء اللہ دُعا کروں گا۔ مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اصول دعا میں سے یہ بات ہے کہ جب تک انسان کو کسی کے حالات کے ساتھ پورا تعلق نہ ہو تب تک وہ رقت اور درد اور توجہ نہیں ہو سکتی جو