خبر ہوجاتی ہے ۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو قرآن شریف میں تدبر کرتے ہیں اورخداکی راہ میں اس کے پانے کے واسطے صدق واخلاص سے کوشش اورورزش کرتے ہیں اور یہی ہیں کہ آخر جن کی پرسوز اور دردمند انہ محنتیں اورکوششیں ضائع نہیں کی جاتیں اورآخریہ لوگ جو صبر سے خداتعالیٰ کے دروازے پر مانگتے ہیں اوراخلاص اورصدق سے کھٹکھٹاتے ہیں ان کے واسطے کھولا جاتا ہے اورآخر وہ اپنے صدق واخلاص اورسچی تڑ پ اورحقیقی اضطراب کی وجہ سے خدائی فیوض کے خزانو ں کے مالک اوروارث بنائے جاتے ہیں۔
دیکھو خدابڑابے نیاز ہے۔اس کو اس بات کی کیا پرواہے کہ کوئی جہنم میں جاوے یا کہ بہشت میں جاوے کسی کے دوزخ میں جانے سے خداکا کچھ بگڑتا نہیں اور کسی کے بہشت میں جانے سے سنورتا نہیں ۔خدا کا اس میں ذاتی نفع یا نقصان کچھ بھی نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسب الناس ان یتر کو آان یقولو آامنا وھم لایفتنون ۔(العنکبوت:۳)یعنی کیا بس اتنی بات سے کہ لوگ زبان سے اتنا کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے ۔خداراضی ہوجاتا ہے اورحال یہ کہ ابھی ان کے اس قول کا امتحان نہیں کیا گیا کہ آیا وہ حقیقتاً مومن ہیں بھی یا کہ نہیں اوران کے اس قول کاصدق وکذب ظاہر نہیں ہوا۔پس سچی اور پکی بات یہی ہے کہ انسان اول صدق ‘اخلاص اور گدازش اختیار کرکے اپنے اوپر ہزاروں موتیں وارد کرے جب جاکر اللہ تعالیٰ رحم کرتا ہے اوراس کی طرف جھانکتا ہے ۔جنتر منتر سے ولی بن جانے والے خیالات کے لوگ اور صرف ایک چھوہ سے آسمانی خزانوں کے مالک بن جانے کے خیالات رکھنے والے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک آدمی ہمارے پاس آیا اورکہا کہ میں توایسے کامل انسان کی تلاش میں ہوں جودم بھرمیں ایک توجہ سے ولی بنادیوے ۔ہم نے بہتیرا سمجھا یا مگر جب وہ باز نہ آیا توہم نے کہا کہ اچھا جائو تلاش کرو۔ اگر کہیں ایسا کوئی قطب غوث مل جاوے ۔آخر ایک مدت دراز کے بعد وہ ہمیں پھر مل گیا ۔برے حال مندے دہاڑے ۔ہم نے پوچھا کہ کیوں تم کو ایسا پھونک مارنے والا آدمی ملا بھی جسے تم تلاش کرنے تھے ؟وہ چپکا ہی رہ گیا اور کچھ جواب نہ دے سکا۔
ہمارے عقید ہ کے موافق تویہ بات ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ نے اورنہ ہی اس کے رسول نے کسی نے بھی یہ راہ نہیں سکھائی ۔ دیکھو صحابہؓ نے کس قدر کوششیں کی ہیں جس کی قسمت میں ہی ایسا ہوکہ اس کی عمر ضائع ہووہ کتاب اللہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔قرآن شریف پڑھ کر دیکھ لو اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ملے گا کہ خداتعالیٰ اس شخص پر بھی راضی ہوتا ہے جو اس کی رضامندی کی راہوں سے غافل اورلاپرواہی کرنے والا ہو۔ خداتعالیٰ نے اپنی رضامندی کی جو راہیں مقرر کردی ہیں ۔انہیں کے اختیار کرنے سے وہ راضی ہوتا ہے ۔صاف طور سے اس نے یہ دعا سکھا دی ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم (الفاتحۃ :۶)دیکھو انسان انسان سے خوش ہوکر اس کو انعامات عطاکرتا ہے