ہزاروں نشان ظاہر ہوچکے ہیں ۔مگر چونکہ میں ایک بہت دور دراز ملک کا رہنے والا ہوں اورہم نے آپ کے ان نشانات سے کوئی حصہ نہیں لیا جس طرح آپ کی موجودہ جماعت کے لوگوں نے آ پ کے نشانات کودیکھا ہے۔لہٰذا میری عرض یہ ہے کہ کوئی نشان دکھایا جاوے جوکہ اطمینان قلب اور ترقی ایمان کا باعث ہو۔‘‘ فرمایا:۔ اصل بات یہ ہے کہ بموجب تعلیم قرآن شریف ہمیں یہ امر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تواللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اپنے کرم ‘رحم ‘لطف اورمہربانیوں کی صفات بیان کرتا ہے اور رحمان ہونا ظاہر کرتا ہے اوردوسری طرف فرماتا ہے کہ ان لیس للانسان الا ماسعی (النجم :۴۰) اوروالذین جاھدوافینا لنھد ینھم سبنا (العنکبوت :۷۰) فرما کر اپنے فیض کوسعی اور مجاہدہ میں منحصر فرماتا ہے نیز اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرز عمل ہمارے واسطے ایک اسو ہ حسنہ اورعمدہ نمونہ ہے ۔ صحابہ کی زندگی میں غور کرکے دیکھو ۔ بھلاانہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کرلیے تھے ؟نہیں ! بلکہ انہوں نے توخداتعالیٰ کی رضا کی حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پروانہیں اوربھیڑبکریوں کی طرح خداتعالیٰ کی راہ مین قربان ہوگئے جب جا کر کہیں وہ درجات دلادئیے جاویں اورعرش تک ان کی رسائی ہوجاوے۔ ہمارے رسول اکر م ﷺ سے بڑھ کر کون ہوگا وہ افضل البشر افضل الرسل والا نبیاء تھے جب انہوں نے ہی پھونک سے وہ کام نہیں کئے تو اورکون ہے جو ایسا کرسکے ۔ دیکھو آپ نے غار حرا میں کیسے کیسے ریاضات کئے ۔ خداجانے کتنی مدت تک تضرعات اورگریہ وزاری کیا کئے ۔ تزکیہ کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا کئے جب جاکر کہیں خداتعالیٰ کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔ اصل بات یہی ہے کہ انسان خداکی راہ میں جب تک اپنے اوپر ایک موت اور حالت فنا وارد نہ کرلے تب تک ادھر سے کوئی پروانہیں کی جاتی ۔البتہ جب خدادیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے اوپر موت وارد کرلی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہوتا ہے اور اس کو نوازتا اور قدرت نمائی سے بلند کرتا ہے ۔ دیکھو قرآن شریف میں ہے ۔وفضل اللہ المجاھدین علی القاعد ین اجراعظیما(النسآ ء :۹۶)قاعدین یعنی سست اورمعمولی حیثیت کے لوگ اورخداکی راہ میں کوشش اور سعی کرنے والے ایک برابر نہیں ہوتے ۔ یہ تجربہ کی بات ہے اورسالہانے دراز سے ایسا ہی دیکھنے میں آرہا ہے ۔ انسان دنیا میں دوقسم کے ہوتے ہیں ایک تووہ جن کوبدقسمتی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ بعض اولیاء اوراقطاب دنیا میں ایسے بھی موجود ہیں کہ جن کی ایک توجہ سے انسان ولایت کے درجہ تک پہنچ سکتا ہے اور عرش تک کی اسے