۳۰مارچ ۱۹۰۸ئ؁ قبل از عصر لائف انشورنس ملک مولا بخش صاحب کا ایک خط حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بدیں مضمون آیا تھا کہ لائف انشورنس کی کسی کمپنی میں وہ حضرت اقدس کے سلسلہ بیت میں داخل ہونے سے کئی سال پیشتر سے ممبر ہیں اور کہ وہ قریب چھ سوروپیہ کے اس کمپنی کو دے چکے ہیں۔ وہ خط حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کرکے اس کے متعلق استفسار کیا۔ملک صاحب موصو ف نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ چونکہ میںنے حضور کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کرلیا ہے اس واسطے اگر اب یہ مسئلہ دین کے کسی رنگ میں بھی مخالف ہوتو میں خوشی سے اس سے دست بردار ہونا چاہتا ہوں ۔ حضرت اقدس نے فرما یا کہ :۔ ہم تو اس کے جواز کی کوئی راہ نہیں پاتے ۔جونقصان ہوچکا ہے وہ خداکی راہ میں نقصان سمجھ کر آئندہ گناہ سے توبہ کرلینی چاہئیے ۔ اللہ تعالیٰ اجر دینے والا ہے ۔اصل میں یہ بھی ایک قمابازی ہے ۔۱؎ ۳۱مارچ ۱۹۰۸ئ؁ قبل نماز ظہر مجاہدہ اورریاضت کی ضرورت پیر عبداللہ شاہ صاحب ساکن پنڈ صاحب خاں ایک معزز خلیفہ ہیں اور ان کو پیر صاحب موصوف کی طرف سے بیعت لینے کی بھی اجازت ہے دو تین دن سے قادیان میں تشریف رکھتے تھے ۔انہوں نے آج حضرت اقدس کی خدمت میں نہایت ادب اور حق جوئی اور اطمینان قلب کی خاطر یوں عرض کی کہ خدا کے بندوں کے ساتھ خداکے نشان ہوتے ہیں اورآپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مامورومرسل بنا کر دنیا میں بھیجا ہے اورآ پ کے ۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۵صفحہ ۱مورخہ ۶اپریل ۱۹۰۸ئ؁