۲۹مارچ ۱۹۰۸ئ؁ قبل از ظہر ایک دل آویز نصیحت ایک معزز صاحب جو حضرت حکیم الامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوستوں میں سے ہیں اور امپور میں قیام رکھتے ہیں۔رامپور سے کانگڑہ تشریف لیجارہے تھے حضرت حکیم الامت کی ملاقات کے واسطے قادیان بھی تشریف لائے حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ذکر کیا کہ گرما کی شدت کی میں برداشت نہیں کرسکتا اور تمام گرما اپریل سے نومبر تک کانگڑہ میں جہاں میرے چائے کے باغ ہیں بسر کرتا ہوں اورآج میں واپس جانے کا ارادہ ہے کیونکہ میں گرمی کی برداشت نہیں کرسکتا ۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ :۔ موسم تو کوئی بھی اللہ تعالیٰ نے بے فائدہ نہیںبنایا ۔آپ نے جہاں جسمانی تپش سے بچنے کا فکر کیا ہے اور آرام وآسائش کی راہیں سوچی ہیں وہاں چندروز یہاں رہ کر روحانی تپش کی اصلاح کے واسطے بھی غورکریں۔ ہمارا کام صرف اللہ تعالیٰ کے حضور دعاکرنا ہے قبل عصر ایک شخص نے اپنی کچھ حاجات تحریری طور سے پیش کیں ۔ حضرت اقدس نے پڑھ کر فرمایا کہ :۔ اچھا ہم دعا کریں گے تووہ شخص کسی قدر متحیر ہوکر پوچھنے لگا۔ آپ نے میری عرضداشت کا جواب نہیں دیا ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ ہم نے تو کہا ہے کہ دعاکریں گے اس پر وہ شخص بولا کہ حضور کوئی تعویذ نہیں کیا کرتے ؟فرمایا :۔ تعویذ گنڈے کرنا ۔ ہماراکام نہیں ۔ ہمارا کام توصرف اللہ تعالیٰ کے حضور دعاکرنا ہے ۔۱؎ ۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۵صفحہ ۱مورخہ ۶اپریل ۱۹۰۸ئ؁