اسلام جوکہ بڑا پاک اوربالکل فطرت انسانی کے مطابق واقع ہوا ہے اوربری کامل اور حکیمانہ تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے اس نے عورتوں کے نکاح میں جس طرح ولی کا ہونا ضروری قرار دیا ہے اسی طرح ان کی طلاق میں بھی ایک ولی کا ہونا ضروری رکھا ہے مثلا ً جس طرح عورت اپنے نکاح کے واسطے اپنے ولی کی محتاج ہے اسی طرح طلاق کے واسطے بھی ولی کی محتاج ہے ۔ اگر کسی عورت کا کسی خاص شخص سے گذارہ اورنباہ نہیں ہوسکتا تواس کو اجازت ہے کہ قاضی یا حاکم وقت کی معرفت خلع کرائے ۔ وہی قاضی یا حاکم وقت اس کا ولی طلاق ہوگا۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔
باقی رہا ورثہ کے متعلق سوقرآن شریف نے مرد سے عورت کا حصہ نصف رکھا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ نصف اس کو والدین کے ترکہ میں سے مل جاتا ہے اورباقی نصف وہ اپنے سسرال میں سے لیتی ہے اورپھر اس کے ناں ونفقہ ‘لباس وپوشاک کا ذمہ دار بھی اس کا خاوند ہوتا ہے ۔ اس طرح پر ایک طرح سے عورت مرد سے بھی بڑھ جاتی ہے ۔ ان معترضوں کو شرم اورحیا سے کام لینا چاہئیے ۔ پہلے اپنے گریبان میں تومنہ ڈال کر جھانک لیاکریں ‘پھر زبان اعتراض کھولا کریں۔
آرام کی زندگی بسر کرنے کا طریق
فرمایا :۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ظالم کو ظالم مت کہو بلکہ خود اپنے آپ کو سو ۔ بادشاہ یا حاکم کو مت کوسو۔ اگر تم اپنی حالت کو سنوارلوتو حاکم بھی نرم اوررحمدل ہوجاویں گے اگر کسی کا حاکم ظالم اورجابر ہے تووہ جان لے کر اس کے اعمال ہی اس لائق ہیں۔ قرآن شریف نے کیا پاک اصول قائم کیا ہے ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیر و اما بانفسھم(الرعد:۱۲)جب انسان پر خداتعالیٰ کی طرف سے ہی فرد جرم لگ جاوے تو کون ہے جو اس کی رعایت کرے اوربچاسکے ۔ حکام خداکے قہر اور رحم کا نمونہ ہوتے ہیں۔ اگر خداخوش ہوتو حکام کے دل میں خود بخود رحم پیدا ہوجاتا ہے اوراگر خداہی ناراض ہے توپھر انسان خود واجب سزاہے کسی کے کیا بس کی بات ۔
پس اگر تم اس دنیا میں آرام کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہوتو خداکی طرف جھک جائو اوراپنی اصلاح کرلو اور پورے طور سے خداکے ہوجائومن کان للہ کان اللہ لہ ‘پنجابی کی مشہور مثل ہے کہ جے توں میرا ہورہیں سب جگ تیراہو ۔ اصل بات یہی ہے کہ خوش ہوتو سب خوش ہوجاتے ہیں ۔خداکا راضی کرنا مقدم ہے نادرشاہ کے حملہ کے وقت دلی کے بعض عقلمندوں نے کیا خوب کہا ہے ؎ شومئے اعمال ماصورت نادر گرفت ۱؎
۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۲صفحہ ۷۔۸مورخہ ۲۶مارچ ۱۹۰۸ئ