دھم بدء وکم اول مرۃ (التوبہ ـ:۱۳)یعنی ہر ایک شرارت اورفساد کی ابتداپہلے کفار کی طرف سے ہوئی ہے بلکہ قرآن شریف نے تو اس امر کی بڑی وضاحت کردی ہے کہ جنہوں نے مقابلہ کیا ان کا مقابلہ تلوار سے کیا جاوے اور جولوگ الگ رہتے ہیں اورانہوں نے ایسی جنگوں میں کوئی حصہ نیں لیا ان سے تم بھی جنگ مت کرو بلکہ ان سے بیشک احسان کرو اور ان کے معاملات میں عدل کرو۔ چنانچہ فرماتا ہے لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخر جوکم من دیا ر کم ان تبروھم وتقسطوٓاالیھم ان اللہ یحب المقسطین (الممتحنۃ :۹) اب جائے غور ہے کہ قرآن شریف نے جن اضطراری حالتوں میں جنگ کرنے کی اجازت دی ہے ان میں سے آج اس زمانہ میں کوئی بھی حالت موجود ہے ؟ظاہر ہے کہ کوئی جبروتشدد کی دینی معاملہ میں ہم پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر ایک کو پوری آزادی دی گئی ہے ۔اب نہ کوئی جنگ کرتا ہے کسی دینی غرض کے لئے اورنہ ہی لونڈی غلام کوئی بناتا ہے ۔نہ کوئی نماز روزے اذان حج اورارکان اسلام کی ادائیگی سے روکتا ہے توپھر جہاد کیسا اور لونڈی غلام کیسے ؟ عورت اورمرد میں مساوات فرمایا کہ :۔ آریہ لوگ اپنی ضد اورہٹ دھرمی سے ایک یہ بھی اسلام پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے مرد اورعورت میں مساوات نہیں رکھی ۔ مردوں کو ترجیح دی ہے فرمایا :۔ تعصب اورحق کی مخالفت نے ان کو اندھا کردیا ہے ایسا کہتے ان کو شرم نہیں آتی ۔ پہلے اپنے گریبان میں تومنہ ڈال کردیکھیں اورپھر انصاف کریں ۔غور کا مقام ہے کہ ان میں سے اگر کسی آریہ کے ہاں چالیس لڑکیاں بھی ہوجاویں جب بھی ان کے مذہب کی روسے اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے منہ کالا کرانے کے واسطے بھیجنا پڑیگا تاکہ وہ اپنی نجات کے واسطے لڑکا حاصل کرے کیونکہ ویدوں کی تعلیم کے مطابق جس کے ہاں لڑکا نہیں اس کی مکتی نہیں ۔ اب ذرا انصاف تو کریںکہ مساوات کس جانورکا نام ہے ۔ چالیس پچاس لاتعداد لڑکیاں بھی ایک لڑکے کی برابری نہیں کرسکتیں اورلڑکیاں بلحاظ کثرت کے خواہ کتنی بھی ہوں اپنی ماں کو اس قابل نفرت اورخلاف فطرت فبیح فعل سے بچا نہیں سکتیں جب تک لڑکا پیدا نہ ہواسے نیوگ کرانا ہی پڑے گا۔اب بتائو کہ کیا تم نے مرد عورت میں مساوات رکھی ہے ؟