دل سے اورخدا سے ہوتا ہے جس کو یکایک ہر کوئی نہیں جان سکتا ۔ دوسراپہلو چونکہ خلقت سے تعلق رکھتا ہے اور اول ہی اول انسان کی نظر انسانی اخلاق پر پڑتی ہے اس واسطے اس خلق کا کمال ایک بڑا بھاری اورشاندار معجزہ ہے ۔دیکھو آنحضر ت ﷺ کی زندگی میں ایسے کئی ایک نمونے پائے جاتے ہیں کہ بعض لوگوں نے محض آپ کے اخلاقی کمال کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔ چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مشرک عیسائی مہمان آیا۔ صحابہ ؓ اس کو اپنا مہمان بنانا چاہتے تھے مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہیں یہ میرا مہمان ہے اس کا کھانا میں لائوں گا۔ چنانچہ اس مشرک کو آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاں مہما ن رکھا اور اس کی بہت خاطر تواضع کی اورعمدہ عمدہ کھانے اس کو کھلائے اور عمدہ مکان اوراچھا بستر ہ اس کو رات بسر کرنے کے واسطے دیا مگر وہ بوجہ کھانا زیادہ کھا جانے کے بدہضمی کی وجہ سے رات بھراسی کو ٹھڑی میں رفع حاجت کرتا رہا۔ مکان اور بسترہ خراب کردیا۔ صبح منہ اندھیرے ہی شرم کے مارے اٹھ کر چلا گیا مگر جب جب آنحضرت ﷺ نے تلاش کی اوروہ نہ ملا تو بہت ہی افسوس کیا اور کپڑے جو نجاسب سے آلودہ ہوگئے تھے خود اپنے دست مبارک سے صاف کررہے تھے کہ وہ اتنے میں واپس آگیا کیونکہ وہ اپنی ایک بیش قیمت صلیب بھول گیا تھا ۔اس کو آتے دیکھ کر آنحضرت ﷺ بہت خوش ہوئے اوراس سے کوئی اظہار رنج نہیں فرمایا بلکہ آپ نے اس کی مدارات اورخاطر کی اوراسکی صلیب نکال کر اس کو دیدی ۔وہ شخص اس واقعہ سے ایسا متاثر ہواکہ وہیں مسلمان ہوگیا۔
اس کے سوااورکئی ایسے ایسے واقعات اس قسم کے اعلیٰ درجہ اخلاق کے موجود ہیں ۔غرض یہ ہے کہ اخلاقی معجزہ صداقت کی ایک بڑی بھاری دلیل ہے ۔
اسلام کی تمام جنگیں دفاعی تھیں
یہ نہایت درجہ کا ظلم ہے کہ اسلام کو ظالم کہا جاتا ہے حالانکہ ظاہم وہ خود ہیں جو تعصب کی وجہ سے بے سوچے سمجھے اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اورباوجود باربار سمجھانے کے نہیں سمجھتے کہ اسلام کے کل جنگ اورمقابلے کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر دفاعی رنگ میں حفاظت جان ومال کی غرض سے تھے اورکوئی بھی حرکت مسلمانوں کی طرف سے ایسی سرزد نہیں ہوئی جس کا ارتکاب اورابتداء پہلے کفار کی طرف سے نہ ہوئی ہو ۔ بلکہ بعض قابل نفریں حرکات کا مقابلہ بتقاضائے وسعت اخلاق آنحضرت ﷺ نے خود عمداً ترک کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ مثلا ً کفار میں ایک سخت قابل نفر ترسم تھی جو کہ وہ مسلمان مردوں سے کیا کرتے تھے مگر آنحضرت ﷺ نے اس قبیح فعل سے مسلمانوں کو قطعاً روک دیا۔
قرآن شریف میں بڑی بسط اورتفصیل سے اس امر کا ذکر موجود ہے مگر کوئی غورکرنے والا اوربے تعصب دل سچائی اور حق کی پیاس بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔ قرآن شریف میں صاف طور سے اس امر کا ذکر آگیا ہے