حقہ نوشی کی تھی ۔ بیعت کے بعد میں شرمند ہ ہواکہ اب تک مجھ میں ایسی عادتیں پائی جاتی ہیں تب میں جنگل میں جا کر خداتعالیٰ کے آگے رویا اور میں نے دعاکی اورپھر یک دفعہ دونو چیزوں کو چھوڑ دیا نہ مجھے کوئی تکلیف ہوئی اور نہ کوئی بیماری وارد ہوئی ۔
فرمایا:۔
یہ خداتعالیٰ کا فضل ہے
قبل از ظہر
بہشت دائمی ہے اوردوزخ غیر دائمی
فرمایا :۔
بہشت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عطآ ء غیر مجذوذ (ھود:۱۰۹)یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا انقطاع نہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بہشت کے درمیان بھی مومنوں کو کھٹکا رہتا کہ کہیں نکالے نہ جاویں ۔ لیکن برخلاف اس کے دوزخ کے متعلق ایسا نہیں ۔بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سب دوزخ سے نکل چکے ہوں گے ۔خداتعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ آخر انسان خداتعالیٰ کی مخلوق ہے ۔خداتعالیٰ اس کی کمزوریوں کو دور کردیگا اوراس کو رفتہ رفتہ دوزخ کے عذاب سے نجات بخشے گا ۔۱؎
۲۶مارچ ۱۹۰۸ئ
بوقت سیر
اخلاقی معجزات کی زبردست تاثیر
فرمایا :۔ اگر انسان تکبر چھوڑ دے اوراخلاق اورملنسارری سے پیش آوے تویہ ایک بھاری معجزہ ہوتا ہے ۔اخلاقی معجزہ ہمیشہ اپنے اندر ایک زبردست تاثیر رکھتا ہے۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ۔سچی تعلیم اورپاک ایمان کا اثر اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے ۔
درجہ کمال کے دوہی حصے ہیں ۔ایک تعظیم لامراللہ ‘دوسرے شفقت علیٰ خلق اللہ ۔امراول کا تعلق تو
۱؎ بدر جلد ۷نمبر ۱۲صفحہ ۴ مورخہ ۲اپریل ۱۹۰۸ئ