قبولیت دعاکا راز دعاکی قبولیت کا بھی یہی راز ہے ۔ انسان جب تک اپنی خواہشات ‘ارادوں اور عملوں کوترک کرکے خدا میں فنا نہ ہوجاوے اورخداکی قدرت کا ملہ اورقادر مطلق ہونے اورسننے اورقبول کرنے والا ہونے پر یقین کامل اور پوراوثوق نہ رکھتا ہو تب تک دعا بھی ایک بے حقیقت چیز ہے ۔فسفیوں کو کیوں قبولیت دعاپر ایمان نہیں ہوتا ؟اس کی یہی وجہ ہے کہ ان کو خداکی وسیع قدرت اورباریک درباریک سامانوں کے پیدا کردینے والا ہونے پر ایمان نہیں ہوتا اور وہ خداکی قدرت کو محدود جانتے ہیں اوراپنے تجارب اورعلوم پر بھی بھروسہ کربیٹھتے ہیں۔ ان کو اپنے تجارب کے مقابلہ میں یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ خدابھی ہے اوروہ بھی کچھ کرسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بعض سخت مہلک امراض میں وہ لوگ یقینی اورقطعی حکم لگادیتے ہیں کہ یہ شخص بچ سکتا یا اتنے عرصے میں مرجاویگا ۔ یااس طرزسے مرے گا۔ مگر بیسیوں مثالیں ایسی خود ہماری چشم دید ہیں اور بعض کو ہم جانتے ہیں جن میں باوجود ان کے یقینی اور قطعی حکم لگادینے کے خداتعالیٰ نے ان بیماروں کے واسطے ایسے اسباب پیدا کردیئے کہ وہ آخر کار بچ گئے اوربعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض وہ بیمار جن کے حق میں یہ لوگ موت کا قطعی اوراٹل فتویٰ دے چکے تھے زندہ سلامت ہوگئے اورکسی دوسرے موقعہ پر ان کو مل کر شرمندہ کیا اوران کے علم ودعویٰ کو بھی شرمندہ کیا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے مامن داء الا ولہ دواء ایک مشہور ڈاکٹر کا ہمیں قول یاد ہے وہ کہتا ہے کہ کوئی مرض بھی ناقابل علاج نہیں ہے بلکہ یہ بیماری سمجھ اورعقل وعلم کا نقص ہے کہ ہمارے علم کی رسائی وہاں تک نہیں ہوتی ۔ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرض کے واسطے بعض ایسے ایسے اسباب پیدا کئے ہوں جن سے وہ شخص جس کو ہم ناقابل علاج یقین خیال کرتے ہیں قابل علاج اور صحت یاب ہو کر تندرست ہوجاوے پس قطعی حکم ہرگز نہ لگانا چاہئیے بلکہ اگر رائے ظاہر بھی کرنی ہوتویوں کہدوکہ ہمیں ایسا شک پڑتا ہے مگر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسے سامان پیدا کردے کہ جن سے یہ روک اٹھ جاوے اوربیمار اچھا ہوجاوے ۔دعاایک ایسا ہتھیار خداتعالیٰ نے بنایا ہے کہ انہو نے کام بھی جن کو انسان ناممکن خیال کرتا ہے ہوجاتے ہیں کیونکہ خداکے لئے کوئی بات بھی انہونی نہیں۔ ۱؎ خداتعالیٰ کا فضل حاجی الہٰی بخش صاحب گجراتی حضرت کے حضور میں حاضر تھے انہوں نے عرض کی کہ مجھے قبل از بیعت پندرہ سال کی عادت افیون اور ۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۲صفحہ ۳۔۴ مورخہ ۲۶مارچ۱۹۰۸ئ؁