طاقۃ لنا بہ (البقرۃ :۲۸۷) جو امر فوق الطاقت اورناقابل برداشت ہوجاوے اس سے خدابھی درگذرکرتا ہے دیکھو حضرت ہاجرہؓ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جو کہ مومنین کی دادی تھی پہلی مرتبہ جب وہ نکالی گئی توفرشتہ لے اسے آواز دی اوربڑی تسلی دی اور اس سے اچھا سلوک کیا مگر جب دوسری نکالی گئی توسوکن نے کہا کہ اس کو ایسی جگہ چھوڑ و جہاں نہ دانہ ہو نہ پانی ۔اس کی غرض یہی تھی کہ وہ اس طر ح سے ہلاک ہوکر نیست ونابود ہوجائے گی اورحضرت ابراہیم کا ایسا منشاء نہ تھا مگر خداتعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو کہا کہ اچھا جس طرح یہ کہتی ہے اسی طرح کیا جاوے اورسارہ کی بات کون مان لے۔ اصل میں با یہ تھی کہ خداتعالیٰ کا منشاء قدرت نما کا تھا ۔ توریت میں یہ قصہ مفصل لکھا ہے ۔بچہ جب بوجہ شدت پیاس رونے لگا توبی بی ہاجرہ ؓ پہاڑ کی طرف پانی کی تلاش میںادھر ادھر گھبراہٹ سے دوڑتی بھاگتی پھرتی رہی مگر جب دیکھا کہ اب یہ مرتا ہے توبچے کو ایک جگہ ڈال کو پہاڑ کی چوٹی پر دعاکرنے لگ گئی کیونکہ اس کی موت کو دیکھ نہ سکتی تھی ۔ اسی ثناء میں غیب سے آواز آئی کہ ہاجرہ !ہاجرہ ! لڑکے کی خبر لے وہ جیتا ہے ۔آکر دیکھا تولڑکا جیتا تھا اورپانی کا چشمہ جاری تھا ۔ اب وہی کنواں ہے جس کا پانی ساری دنیا میں پہنچتا ہے اوربڑی حفاظت اور تعظیم اور شوق سے پیا جاتا ہے ۔ غرض یہ سارا معاملہ بھی سوکنوں کے باہمی حسدوضد کی وجہ سے تھا۔ انبیاء کا وجود خداتعالیٰ کے ظہور کا باعث ہوتا ہے فرمایا :۔ خداکا نام ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ۔وہی ظاہر ہے اور کوئی ظاہر نہیں ۔خداکا ظہور دنیا میں انبیاء کے ذریعہ سے ہوتا ہے ۔انبیاء کا وجود خدا تعالیٰ کے ظہور کا باعث ہوتا ہے ۔انبیاء کے آنے سے پہلے خدامخفی ہوتا ہے ۔لوگ خداکو بھول جاتے ہیں اور زبان حال سے دنیا بول اٹھتی ہے کہ گویا خدا ہے ہی نہیں۔ انبیاء آکر دنیا کو خواب غفلت سے جگاتے ہیں اورا ن کے ذریعہ سے خدااپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اسی واسطے انبیا ء خدانما کہلاتے ہیں۔ وہ خود فنا ہوجاتے ہیں جب خدا کا ظہو ر ہوتا ہے ۔ دیکھو جب تک انسان اپنے نفسانی جذبات اورخودی سے فنا نہ ہوجاوے تب تک خواہ الہام بھی ہو اورکشوف بھی دکھائے جاویں مگر کسی کام کے نہیں کیونکہ بجز اس کے کہ خدامیں اپنے آپ کو فنا کردیا جاوے یہ امور عارضی ہوتے ہیں اور دیر پا نہیں ہوتے اور ان کی کچھ بھی قدروقیمت نہیں ہوتی ۔