نہیں۔ صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ( الحجرات:۱۴) یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیز گار ہے۔
(۹)ہماری قوم میں ایک یہ بھی بد رسم ہے کہ شادیوں میں صدہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتاہے۔ سو یاد رکھنا چاہیئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونو باتیں عندالشرع حرام ہیں۔ اور آتشبازی چلانا اور رنڈی بھڑوئوں ڈوم ڈھاریوں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے۔ ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے ۔ سو اس کے علاوہ شرع شریف میں تو صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکاکر کھلاوے ۔
(۱۰)ہمارے گھروں میں شریعت کی پابندی میں بہت سُستی کی جاتی ہے بعض عورتیں زکوٰۃ دینے کے لائق ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے مگر وہ زکوٰۃ نہیں دیتیں ۔ بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں بہت کوتاہی کرتی ہیں۔ بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجالاتی ہیں جیسے چیچک کی پوجا۔ بعض فرضی دیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔ بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط رکھ دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں کوئی مرد نہ کھاوے یا حقہ نوش نہ کھاوے بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔ ہم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آئو خدا تعالیٰ سے ڈرو ورنہ مرنے کے بعد ذلت اور رسوائی سے سخت عذاب میں پڑو گے اور اس غضبِ الٰہی میں مبتلا ہو جائو گے جس کی انتہاء نہیں ۔ وَالسَّلامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۲؎
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان
۲۹؍جولائی ۱۹۰۶ئ
بزرگانِ اسلام اور علماء وقت :۔
امرت سر کے ایک شریف خاندان کا ایک ممبر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اثنائے گفتگو میں حضرت نے کہا کہ ۔
کیا آپ امرت سر میں ہمارے لیکچر میں موجود تھے؟
شریف:۔ میں اس لیکچر میں موجود تھا اور آپ کی کرسی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا ۔ نادانوں نے شرارت