اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دکھ دیتی ہیں ۔ گالیاںدیتی ہیں۔ ستاتی ہیں ۔بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔ والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہواکرتی ۔سب سے زیادہ خواہشمند بیٹے کے گھر کی آباد ی کی والدہ ہوتی ہے اوراس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے ۔ بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خر چ کرکے خدا خداکرکے بیٹے کی شادی کرتی ہے توبھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جاطور سے اپنے بیٹے کی بہو سے لڑے جھگڑے اورخانہ بربادی چاہے ۔ ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھاگیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے ۔ایسے بیٹے کی بھی نادانی اورحماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ توناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں ۔جب ااسکی والدہ ناراض ہے تووہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں ۔یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ توہے نہیں۔ والدہ اوربیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے ۔اگر کوئی وجہ اورباعث اورہے تو فوراً اسے دورکرنا چاہئیے ۔ خرچ وغیرہ کے معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اوریہ بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تولازم ہے کہ ماں کے ذریعہ سے خرچ کراوے اورکل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے ۔والدہ کو بیوی کا محتاج اوردوست نگر نہ کرے ۔بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔ پس سبب کودور کرنا چاہئیے اورجو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹادینا چاہئیے اوروالدہ کو خوش کرنا چاہئیے ۔ دیکھو شیر اوربھیڑیئے اوردرندے بھی ثوہلائے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہوجاتے ہیں۔ دشمن سے بھی دوستی ہوجاتی ہے اگر صلح کی جاوے توپھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے ۔
سوکنوں کی مشکلات
فرمایاکہ :۔
ایک شخص کی دوبیویاں تھیں ۔ بیویوں میں باہم نزاع ہوجانے پر ایک بیوی خود بخود بلا اجازت اپنے گھر میکے چلی گئی ۔ وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں طلاق دیدوں ۔ میں نے سوچا کہ یہ معاملات بہت باریک ہوتے ہیں۔ سوکن کو بڑی بڑی تلخیاں اٹھانی پڑتی ہیں اور بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ بعض عورتوں اپنی مشکلات کی وجہ سے خود کشی کرلیتی ہیں۔جس طرح سے دیوانہ آدمی مرفوع القلم ہوتا ہے اسی طرح سے یہ بھی ایسے معاملات کی وجہ سے مرفوع القلم اور واجب الرحم ہوتی ہیں کیونکہ سوکن کی مشکلات بھی دیوانگی کی حد تک پہنچادیتی ہیں۔
اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص خود بھی دوسری بیوی کی طرف ذرا زیادہ التفات کرتاتھا اوروہ بیوی بھی اس بیچاری کو کوستی اورتنگ کرتی تھی ۔ آخر مجبور ہوکر اور ان کی مشکلات کی برداشت نہ کرکے چلی گئی ۔چنانچہ اس شخص نے خود اقرار کیا کہ واقعی یہی بات تھی اور اپنے ارادے سے باز آیا ۔
ایسے قصوروں کو توخداتعالیٰ بھی معاف کردیتا ہے ۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے لاتحملنا مالا