ہوئے ان کی تباہی اوربربادی اوران کے محلات کے کھنڈرات بنائے جانے کے متعلق ذکر کرتے تھے ۔ اس پر حضرت اقدس (علیہ السلام )نے فرمایا کہ :۔ پہلے بادشاہوں کے زمانہ میں یہ قاعدہ ہوتاتھا کہ ان کے درباروں میں کوئی نہ کوئی اہل اللہ بھی موجود ہواکرتے تھے جن کے صلاح مشوروںسے بادشا ہ کام کیا کرتے تھے اوران کی دعائوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے مگر اب وہ حال نہیں رہا بلکہ ان مسلمانوں کا بھی بنی اسرائیل والا حال ہوگیا ۔ ان کو بھی خدانے بوجہ ان کی بدکاریوں کے چھوڑدیا تھا اورکوئی نصرت ان کی نہیں ہوتی تھی ۔ وہی حال اب بھی ہورہا ہے ۔ اسلام کی نصرت اورمدد کا خداتعالیٰ نے خود وعدہ کیا ہے مگر کوئی مسلمان بھی ہو۔ مسلمان توخود ہی موردقہر وعذا ب الہٰی ہورہے ہیں۔ ان کی نصرت کیسے ہو۔ یہ چند ہندوستانی مسلمانوں کی ریاستیں جو خدا کے قہر کا نشانہ بنیں ۔ اگر یہ کچھ بھی نیک طینت ہوتے تو خدا ضروران کو محفوظ رکھتا اوران کی نصرت کرتا۔ یہ عذاب اورتنزل جو ان کو نصیب ہوایہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا باعث تھا۔ دیکھو بنی اسرائیل کو خودموسیٰؑ کے ہوتے ہوئے شکست ہوئی تھی اس کی بھی یہی وجہ تھی کہ ا ن کی حالت خود جاذب نصرت نہیں تھی بلکہ حضرت موسیٰؑ نے ان کو کہدیا تھا اس وقت مقابلہ مت کرو۔ موقعہ مناسب نہیں اورنہ ہی وہ وقت آیا ہے کہ تمہاری نصرت ہو۔ صلاح الدین ایوبی صلاح الدین ایک نیک بخت شخص تھا۔ نمازونںکا بھی پابند تھا۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے بھی اس کی تائید کی اورسخت سے سخت مشکلات اور مخالفوں کے حملوں میں اس کو فتح نصیب کی۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم بگڑ جاتی ہے اورخداکو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھک جاتی ہے اوربدکاریوں اور فسق وفجور میں غرق ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک دوسری قوم کو خود اپنے ارادہ سے اس پر مسلط کردیتا ہے ۔ والدہ کا حق ایک دوست نے خط کے ذریعہ اس امر کا استفسارکیا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اورمجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے مگر مجھے میری بیوی سے کوئی رنجش نہیں ۔میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایاکہ :۔ والدہ کا حق بہت بڑا ہے اوراسکی اطاعت فرض ۔مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہئیے کہ آیا اس ناراضگی کی تہہ میں کوئی اوربات تو نہیں ہے جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہوتو اس کاحکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اوراگرکوئی ایسا مشروع امر ممنوع نہیں ہے۔ جب تووہ خود واجب الطلاق ہے ۔