تائیدات بھی موجود ہو ں یا قرآن وحدیث سے مبرہن کیا گیا ہو۔ ہمارا مطالبہ توان شرائط ولوازم کے ساتھ کسوف خسوف ثابت کرنے کا ہے ۔
دیکھو اس واقعہ کا بیان تو انگریزی اخبارات مثل سول ملٹری اورپائونیر وغیرہ نے بھی کردیا تھا کہ اس ہیئت کذائی سے اس سے پہلے کبھی کوئی واقعہ ظہو ر میں نہیں آیا ۔ اس سے بڑھ کر دجل اور بے ایمانی کیا ہوگی کہ سب لوازم کو ترک کرکے صر ف ایک بات کو ہاتھ میں لے کر اعتراض کردینا ۔دکھانا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایسا نشان ظاہر ہونے سے پہلے کہ وہ مقررہ تاریخوں میں ظاہر ہواہو‘کوئی مدعی بھی موجود ہو۔ پھر اس نے دعویٰ بھی کیا ہو۔ اس دعویٰ کی اشاعت بھی کی ہواور اس کو آیات ونشانات ارضی وسماوی اوردلائل قاطعہ سے مبرہن بھی کیا ہو۔ یونہی زبان اعتراض ہلا دینے سے کیا ہوتا ہے ۔ اس طرح سے توتمام نبوت کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔
ڈاکٹر عبدالحکیم کے عقاید
مولوی عبداللہ خاں صاحب پٹیالوی نے عرض کیا کہ حضور تمام جماعت پٹیالہ نے بڑا شکر کیا تھا ۔جس دن یہ شخص جماعت میں سے خارج کیا گیا تھا ۔ وہ بار ہا مجھ سے یوں مخاطب ہواکرتا تھا کہ مولوی صاحب جب کونین میں ذاتی خاصیت کی شفا کی موجود ہے توکیا ضرورت ہے کہ عبدالحکیم کو ڈاکٹر ماننے ہی سے کونین شفادے اس طرح سے جب توحید الہٰی پر ایمان لانے کا نتیجہ نجات ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ہم محمد ؐ کو نبی مانیں بلکہ جس طرح سے کونین بغیر اس کے بھی کہ کسی زید بکر کوڈاکٹر تسلیم کیا جاوے نفع پہنچاتی ہے اسی طرح توحید بھی اپنے نفع پہنچانے اورنجات دلانے کے لئے کسی کے رسول اور نبی ماننے کی محتا ج نہیں ۔
فرمایا :۔
ہم نے یہی مناسب سمجھا کہ بجائے اس کے کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اعتراض سنیں اورایمان لانے کی ضرورت نہ سمجھنے کا سوال سنیں کیوں عبدالحکیم ہی کو جماعت سے خارج نہ کردیں ۔۱؎
۲۵مار چ ۱۹۰۸ئ
بوقت سیر
مسلمان ریاستوں کی تباہی کی وجہ
جناب خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن فرخ آباد کے گذشتہ نوابی حالات کا ذکر کرتے
۱؎الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۲صفحہ ۳مورخہ ۲۶مارچ ۱۹۰۸ئ