۲۴مارچ ۱۹۰۸ئ؁ بوقت سیر پیشگوئی میں مذکور سورج اورچاندگرہن کی شرائط حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن کے واسطے حضرت اقدس کی اجازت سے امروہہ تشریف لے گئے ہوئے تھے ۔ بخیرو عافیت واپس تشریف لے آئے ہیں ۔انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ حضور کانے ۱؎ دجال نے بڑادجل کر رکھا ہے اوربعض جاہل اوربے علم لوگ اس کے دھوکے میں آئے ہوئے ہیں کہ اس نے اپنی کتاب میں پچیس یا چھبیس دفعہ چاند یا سورج گرہن رمضان میں ہونے کاثبوت دیا ہے اس پر فرمایا کہ :۔ ہم نے اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا کہ پہلے بھی رمضان میں کبھی کسوف خسوف ہواہوکہ ہم تونظام شمسی کے قائل ہیں اور ایمان رکھتے ہیںکہ ممکن ہے کبھی پہلے بھی ایسا واقعہ ہوگیا ہو۔ ہمارادعویٰ توصرف یہ ہے کہ جن شرائط اورلوازم کا ذکر حدیث دارقطنی میں درج ہے ایسا آج سے پہلے کبھی واقعہ نہیں ہوا۔ مثلاً اس حدیث میں صاف تاریخ مقرر کی گئی ہے کہ چاند گرہن اپنے گرہن کی مقررہ تاریخوں میں سے اول تاریخ میں اور سورج گرہن اپنے گرہن کی مقررہ تاریخوں میں سے ان کے نصف میں یعنی تیرھویں چاند اوراٹھائیسویں کو سورج گرہن ہوگا اور اس وقت پہلے سے ایک مدعی مہدویت کا دعویٰ موجود ہوگا نہ کہ سورج گرہن اورچاند گرہن کو دیکھ کر دعویٰ کرے گا بلکہ وہ پیشتر ہی سے دعویٰ موجود ہوگا اور اس کی تائید اورنصرت کے واسطے آسمان پر اس طرح سے چاند اورسورج گرہن ہوگا اور علاوہ ازیں اورنشانات زمینی وآسمانی اوردلائل وبراہین سے اپنے دعویٰ کو مبرہن کرتا ہوگا اور اس کا دعویٰ خوب طرح سے شہرت پاکر دوردور اطراف میں مشہور ہوگیا ہوگا ۔ پس کیا عبدالحکیم نے ایسا بھی ثبوت دیا ہے کہ وہ پہلے گرہن جو رمضان میں واقع ہوئے تھے ان میں سے کوئی ان شرائط ولوازم اورقید تاریخ سے بھی واقع ہواتھا ؟اورکیا اس وقت پہلے اس کے کہ وہ اس طرح کا موعودہ کسوف خسوف ظہورمیں آوے کوئی مدعی مہدویت اورمسیحیت موجود تھا جس نے اپنے دعویٰ کو عام کتب کے ذریعہ سے شائع بھی کیا ہواور اس کا دعویٰ دنیا میںشہرت یافتہ ہو اور پھر اس کے ساتھ کوئی آسمانی یا زمینی نشان اور ۱؎ ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کی طرف اشارہ ہے (مرتب )