یَدخُلُونَ فی دین اللّٰہِ اافوَاجاً (النصر ۲۔۳) اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دین الہیٰ یعنی اسلام میں بہت کثرت اور بہتاب سے لوگ شامل ہوں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حین حیات میں ہی ایسا ظہور میں آوے گا ۔ بھلا ان لوگوں سے کوئی پوچھے کہ کیا دو چار آدمیوں کا نام ہی افواج ہے اور کیا یہی آنحضرت ﷺ کی اتنی لمبی محنت اور جانکاہ کو ششوں کو نتیجہ تھا ؟ افسوس دیکھو فوج ہی کچھ کم نہیں ہوتی یہاں تو اللہ تعالیٰ نے فوج کی بھی جمع کا لفظ بولا ہے اور افواجاً کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں فوجوں کی فوجیں داخل اسلام ہو جاویں گی۔ ان لوگوں کے عقائد کے لحا ظ سے تو قرآن شریف ہی کی تکذیب لازم آتی ہے ۔انہوں نے قرآن شریف کو تو محرف مبدل کا الزام دے کر چھوڑ دیارہے قرآن شریف کے پہنچا نے والے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے رَضِیَ اللّٰہُ عَنھُم وَرَضُوا عَنہُ (البینۃَ۹)فرما یا اور ان کو آنحضرتﷺ کے تخت کو وارث بنایا اور آنحضرت ﷺ کے منہ سے نکلی ہوئی پیشگوئیوں کی تصدیق کرنے والے اور پورا کرنے والے بتایا ۔انہی کے ہاتھ سے بڑے بڑے قرآنی وعدے سے پورے گئے ۔ قیصر وکسری کے تخت اور خزانے انہی کے ذریعہ اسلام کا ورثہ بنائے ۔سو اُن کو غذار ظالم منا فق اور غاصب کا لقب دے کر چھوڑ دیا ۔ان کا تو وہ حال ہے جس طرح ایک عورت کو جب اس کے دن حمل کے پورے ہو چکتے ہیں تو دروزہ شروع ہوتی ہے جس کی تکلیف سے وہ اور اس کے عزیز واقارب اور خویش روتے ار درمند ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک تا ریک حالت ہوتی ہے ۔نتیجہ کی کسی کو خبر نہیں ہوتی ۔مگر جب اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو جاوے اور وہ چلہ کر کے غسل صحت بھی کر لے اور بچہ بھی اس کا صحیح سالم جیتا جاگتا ہو اس وقت لگے کوئی آدمی رونے تو اس کا رونا کیسا بے محل اور بے موقعہ ہو گا ۔ سو یہی حال ہے ان کا وقت گذ ر چکا ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کامیابی کے ساتھ تخت خلافت کو مقررہ وقت تک زیب دے کر اپنی اپنی خدمات بجا لا کر بڑی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی رضوان لے کر چل بسے اور جنات وعیون جو آخرت میں ان کے واسطے مقرر تھے اور وعدے تھے وہ اُن کو عطا ہوگئے ۔اب یہ روتے ہیں اور چلاتے ہیں کہ نعوذ باللہ ایسے تھے اور ایسے تھے ۔ محرم میں شہد ان کربلا کو یا د کر کے رونے سے کیا حاصل ؟ اپنے نفس کا غم کرنا چاہیے اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئیے ۔سب سے بڑا فکر انسان کو جو کرنا چاہیے وہ یہی ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح کر لے اور آخر ت کے واسطے زادراہ لے لے ۔ دیکھو آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو کیا کہا تھا ۔اے فاطمہ ؓ اپنی جان کو آگ سے بچانے کی فکر کر لے میں تیرے کسی کام نہیں آ سکتا جب آنحضر تﷺ کا یہ حال ہے تو پھر اور کسی کا کیا حال ؟