وفات مسیح علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے تو عیسٰی کا قصہ ہی تمام کر دیا ہے جہاں یہ سوال وجواب ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّیتَنی کُنتَ آنتَ الرَّقیبَ عَلَیھم (المائدۃ: ۱۱۸)
اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ۔ایک تو حضرت عیسیٰ کا وفات پا جانا اور دوسرے ان کا دوبارہ دنیا میں نہ آنا ۔کیونکہ یہ سوال وجواب قیامت کے دن کو ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ کا یہ سوال حضرت عیسیٰ سے کہ کیا تم نے عیسائیوں کو یہ شرک کی تعلیم دی تھی اور حضرت عیسیٰ ؑ کا یہ جواب دینا کہ یا الہٰی یہ میری وفات کے بعد بگڑے ہیں ۔مجھے اس بات کا علم نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کیسے عقائد اخیتار کر لیے میں نے تو ان کو صرف توحید کی تعلیم دی تھی ۔اس سوال وجواب سے صاف صریح اور واضح طور پر معلوم ہوتاہے کہ حضرت عیٰسی ؑ وفات پا چکے ہیں اور وہ دنیا میں دوبارہ نہیں آئیں گے ورنہ اگر وہ دوبارہ کبھی دنیا میں آئے ہوتے اور ان کی گندی تعلیم اور مشرکانہ عقائد کی اصلاح کی ہوتی ہے ۔صلیب توڑی ہوتی اور خنز یر قتل کئے ہوتے تو کیا اللہ تعالیٰ ان کو ایسے صریح جھوٹ سے سر زنش نہ کرتا ؟ اور وہ ایسی جرات اور دلیری سے حضور الہیٰ کے سامنے قیامت کے دن ایسا جھوٹ بولتے ؟ ہرگز نہیں پس واقعی اور حق بات یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ وفات پا چکے اور وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے ۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا قول ہوا اس کی تصدیق آنحضرت ﷺ نے فعل سے کردی ۔اور آپ نے معراج کی رات حضرت عیسیٰ ؑ کو حضرت یحیٰ کے پاس بیٹھے دیکھا غور کا مقام ہے کہ زندہ کو مردہ سے کیا تعلق اور کیا کام َ
حیات اور وفات تو دو ضدیں ہیں جس طرح نور اور ظلمت ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ۔اسی طرح مردے اور زندہ لوگوں کا بھی آپس میں کوئی تعلق نہیں کہ ایک جگہ رہیں بلکہ حضرت عیسیٰؑ کے واسطے تو کوئی الگ کوٹھڑی در کا رتھی ۔
مسیح موعو ؑ کی آمد اور پیشگوئیوں کا ظہور
اس کے بعد اور زیادہ تشریح بخاری اور مسلم نے کر دی ہے جنہوں نے آخری زمانہ کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نئی سواری کا ذکر کر کے یہ کہا کہ لَیترَ کَنَّ القِلاصُ فَلآ یُسعٰی عَلَیھَا اور قرآن شریف نے اسی مضمون کو عبارت ذیل میں بیان فرما کر اور بھی صراحت کر دی کہ اذَا العِشَارُ عُطُلتَ(التکویر:۵)
قرآن وحدیث کا تطابق اور پھر عملی رنگ میں اس دور دراز زمانہ میں جب کہ ان پیشگوئیوں کو تیرہ سو برس سے بھی زائد عرصہ گذر چکا ہے ان کا پورا ہونا ایمان کو کیسا تا زہ اور مضبوط کرتا ہے ۔چنانچہ ایک اخبار میں ہم نے دیکھا ہے کہ شاہ روم نے تا کیدی حکم دیا ہے کہ ایک سال کے اندر حجاز ریلوے تیار ہو جاوے ۔
سبحان اللہ کیسا عجیب نظارہ ہو گا اور ایمان کیسے تازے ہوں گے کہ جب پیشگوئی کے بالکل مطابق بجائے اونٹوں کی لمبی لمبی قطاروں کے ریل کی قطاریں دوڑتی ہوئی نظر آویں گی ۔ پس جب یہ پیشگوئی جو آثار قرب قیامت اور مسیح موعوؑ د کی آمد کے نشانات