نہیں ہوا ۔ وہ حضرت موسیٰ ؑ کے رفع روحانی کے قائل تھے نہ کہ رفع جسمانی کا تو ان کے دلوں میں خیال تک بھی نہ تھا ۔پس سچی بات یہی ہے کہ مسلمانوں اور یہود کا متفقہ اور مسلم اعتقاد اس پر ہے کہ خدا کے نیک بندوں کا بعد وفات رفع روحانی ہوا کرتا ہے ۔اور یہی قابل بڑائی بات ہے ۔رفع جسمانی کے یہ نہ قائل ہیں اور نہ کوئی اس میں فضلیت مد نظر ہے چنانچہ قرآن شریف بھی اسی اُصول کو یوں بیان فرماتا ہے کہ مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الآ بوآبُ (صٓ:۵۱)یعنی جو خدا کے نزدیک متقی اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں خدا ان کے لیے آسمانی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔اور ان کا دفع روحانی بعد الموت کیا جاتا ہے اور ان کے مقابل میں جو لوگ بد کار اور خدا تعالیٰ سے دور ہوتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق صدق واخلاص نہیں ہوتا اُن کے واسطے آسمانی دروازے نہیں کھولے جاتے جیسا کہ فرمایا لا َ تُفَتَّحُ لَھُم آبوَ بُ السَّمَآ ئِ وَلٓا یُدخُلُونَ الجُنَّۃَ حَتَّی یَلحَ الجملُ فِی سَمّ الخَیاطِ (الاعراف:۴۱) غرض یہود کا اعتراض تو یہی تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیؑ چونکہ سولی پر چڑھائے گئے ہیں اس واسطے وہ ملعون ہیں اور صاف بات ہے کہ ملعون کا رفع روحانی نہیں ہو سکتا ۔اسی کے جواب میں قرآن شریف نے فرمایا ہے ۔بَل رَّفَعَہُ اللّٰہٗ اِلیہِ (النسآء :۱۵۹) اچھا ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر یہودیوں کا یہی اعتراض تھا کہ عیسیٰؑ کا رفع جسمانی نہیں ہوا تو پھر قرآن شریف جو کہ ان دونوں قوموں میں حکم ہو کر آیا ہے اس نے یہود کے اس اعتراض کا کیا جواب دیا ہے ؟ کیا وجہ کہ قرآن شریف نے یہود کے اصل اعتراض کا تو کہیں جواب نہ دیا اور رفع روحانی پر اتنا زور دیا اور رَفَعَہُ اللّٰہُ الیہِ فرمایا رَفَعَہُ اللّٰہُ الیٰ السَّمَائِ کیوں نہ فرمایا عرش الہیٰ ایک وراء الور مخلوق ہے جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ہے ۔یہ نہیں کہ نعوذ باللہ عرش الہی آسمان سے قریب اور زمین سے دور ہے ۔لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے عرش مقام تنزیہ ہے اور اسی لیے خدا ہر جگہ حا ضر نا ظر ہے جیسا کہ فرماتا ہے ھُوَ مَعَکُمُ آینَ کُنتُم (الحدید:۵)اور مَایَکُونَ من نَجوٰی ثَلٰثۃِِ اِلّا ھُوَ رَابعُھُم (الجادلۃ : ۸)اور فرماتا ہے کہ وَنَحنُ آقَرَبُ اِلیہ من حَبلِ الوَریدِ (قٓ: ۱۷) غرض اصل جھگڑا تو صرف ان کے رفع روحانی اور مقرب بار گاہ سلطانی ہونے کے متعلق تھا سو اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ ہی کر دیا یہ فرما کر کہ بَل رّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیہِ اب کوئی بتائے کہ بھلا اس سے ان کا آسمان پر چڑھ جانا کیسے ثابت ہوتا ہے ۔کیا خدا تعالیٰ آسمان پرہے اور زمین پر نہیں ۔