کرتے ہیں ان کے مقابلہ میں خا رجی ان کا منہ بند کرتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ صحابہ ؓ میں بھی کبھی کوئی نزاع بھی اگر واقع ہو گئی ہو تو کیا ہرج کی بات ہے نزاع اور جھگڑا ہمیشہ وہیں ہوا کرتا ہے جن کے آپس میں گہرے تعلقات ہوں ۔ یہ کوئی عیب کی بات نہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ان سب باتوں کا یوں فرما کر فیصلہ ہی کر دیا ہے کہ نَزَ عنَا مَا فیِ صُدُورِھُم من غِلّ اخوَانًا عَلیٰ سُرُرِ مُّتَقَابِلینَ (الحجر:۴۸) پس خدائی فیصؒہ کے بعد ان امور میں زبان کھولنا ایمان کا نشان نہیں ۔اگر صحابہ ؓکرام پر شیعہ اعتراض کرتے ہیں تو خا رجی حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر بھی تو اعتراض کرتے ہیں ۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ ابو جہل کی لڑکی سے شا دی کریں مگر جب آنحضرت ﷺ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکے گا کہ خدا کے رسول کی لڑکی اور خدا کے دشمن کی لڑکی ایک گھر میں جمع ہوں ۔اگر ایسا ہی کرنا منظور ہو تو فاطمہ ؓ کو طلاق دے دی جاوے ۔بلکہ خا رجی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے نعوذ باللہ اپنے اسی ارادے کو پورا کرنے کے واسطے خود دانستہ حضرت فاطمہؓ کو زہر دے کر ما ر دیا تھا ۔ اور آخر کار اس طرح اپنے اس ارادے کو پورا بھی کر لیا ۔ آنحضرت ﷺ کی بیویوں کے متعلق قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ وہ امہات المومنین ہیں تو حضرت علی گویا مدت تک ماں سے جھگڑا کرتے رہے ہیں ۔ حضرت حسن ؓ نے حضرت معاویہ کے مقابلہ میں ملک ہی چھوڑ دیا تھا مگر دیکھو حضرت علی ؓ نے ماں سے جھگڑا نہ چھوڑ ا بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اول اول حضرت ابو بکر کی بیعت سے بھی تخلف کیا تھا ۔ مگر پھر گھر میں جا کر خدا جانے یک دفعہ کیا خیال آیا کہ پگڑی بھی نہ باندھی اور فوراً ٹوپی سے ہی بیعت کرنے کو آگئے اور پگڑی پچھے منگائی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں خیال آگیا ہو گا کہ یہ تو بڑی معصیت ہے ۔ا سی واسطے اتنی جلدی کہ کہ پگڑی بھی نہ باندھی اصل بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں قرآن شریف میں تدبر نہ کرنے کی وجہ سے ہیں ۔ مسیح علیہ السلام کا رفع وفات مسیح پر فرمایا کہ :۔ قرآن شریف یہود ونصاریٰ کے اختلاف کے لیے بطور حکم ہے اصل جھگڑا تو یہ تھا کہ توریت میں لکھا تھا کہ جو سولی پر لٹکا یا جاوے اس کا رفع روحانی نہیں ہوتا اور وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی طر ف سے ایسے شخص کو خلعت نبوت عطا کیا جاوے ۔ بلکہ ملعون اور لعنتی ہوتا ہے ۔ سولی جرائم پیشہ لوگوں کی سزا ہے اور جو جرائم پیشہ لوگوں کی سزا سے موت کا لقمہ بن جاوے وہ اس قابل کہاں ہوتا ہے کہ اس کا رفع روحانی ہو ۔ غرض ان یہود کا دعویٰ تو صرف یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ کا رفع روحانی