بلاتے ؟ اس کاکام کسر صلیب ہے اور اسی کی زمانہ کو ضرورت ہے اور اسی واسطے اس کا نام مسیح موعود ہے۔اگر ملالوں کو نوع انسان کی بہبودی مد نظر ہوتی تو ہر گز ایسا نہ کرتے ۔ان کو سوچنا چاہیے تھا کہ ہم نے فتویٰ لکھ کر کیا بنا لیا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ ہو جاوے اس کو کون کہہ سکتا ہے کہ نہ ہواے ۔ یہ ہمارے مخالف بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں کہ مشرق ومغرب میں ہماری بات کو پہنچادیتے ہیں ۔ا بھی ہم نے سنا ہے کہ گولڑے والا پیر ایک کتاب ہمارے بر خلاف لکھنے والا ہے سو ہم خوش ہوئے کہ اس مریدوں میں سے جس کو خبر نہ تھی اس کو بھی خبر ہو جاوے گی اور ان کو ہماری کتابوں کے دیکھنے کے لیے ایک تحریک پیدا گی ۔ اس کے بعد آپ اند ر تشریف لے گئے ۔ ایک اور وقت میں فرمایا کہ :۔ یہ جو حدیث سے ثابت ہو تا ہے کہ اس زمانہ میں ذلیل لوگ عزت پا جائیں گے ۔سو یہ بات چوہڑوں اور چماروں کے عیسائی ہونے میں پوری ہوئی انگریزی کی تعلیم دے کر اور انگریزی نام رکھ کر دفتروں میں افسر کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے خاندانی ان کے سامنے ایک ذلیل کی طرح کھڑے ہوتے ہیں ۔ وحد ت شہود صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے لطفیہ سنایا کہ میں وحدت وجود کے مسئلہ کا قائل تھا اور شہودیوں کا سخت مخالف ۔جب میں پہلے پہلے حضرت اقدس مرزا صاحب کی خدمت میں پہنچا تو آپ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ :۔ ایک سمندر ہے جس سے سب شاخیں نکلتی ہیں مگر ہمیں شہودیوں والی بات درست معلوم ہوتی ہے ۔ کیونکہ قرآن شریف کے شروع ہی میں جو کہا گیا ہے ۔ آلحمد ُ لِلّہِ رَبِّ العَالَمینَ (الفاتحۃ :۲)عالمین کا رب تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رب اور ہے عالم اور ہے ورنہ اگر وحدت وجود والی بات صحیح ہوتی تو رب العین کہا جاتا ہے ۔ ۱؎ ۱۹ مارچ ۱۹۰۸؁ء بوقت سیر شیعوں کا غلو ۔قرآن شریف میں تدبر نہ کرنے کا نتیجہ ہے فرمایا :۔ شیعہ لوگ خواہ مخواہ غلو