سجدہ کیا کریں۔ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بدزبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم زبانی سُن کر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔ خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔ عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چُراویں اور نا محرم سے اپنے تئیں بچائیں اور یاد رکھنا چاہیئے کہ بجز خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں ان سے پردہ کرنا ضروری ہے جو عورتیں نامحرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ عورتوں پریہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بدوضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور نہ اُن کو اپنی خدمت میں رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صُحبت ہو۔ (۶) عورتوں میں یہ بھی ایک بدعادت ہوتی ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لئے دوسرا نکاح کرنا چاہتاہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے اور شور مچاتے ہیں اور بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ ایسی عورتیں اور ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں۔ کیونکہ اللہ جل شانہٗ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے جس میں صدہا مصالح ہیں مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔ پھر جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جاوے۔ ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے حکموں کا مقابلہ کرتے ہیں نہایت مردوداور شیطان کے بہن بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اُسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کے لئے دوسرا نکاح ضرور کرے۔ ۱؎ (۷) بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے ۔ اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔ پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے ۔ سو یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں او ر ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مدد گار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔ سو ان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیئے۔ (۸)ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کو لڑکی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔ یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے بالکل برخلاف ہے ۔ بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔ رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہیئے کہ جس سے نکاح کیا جاتاہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجبِ فتنہ ہو اور یاد رکھنا چاہیئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ