جس کے ساتھ کوئی ملونی ذاتی فوائد اور منافع کی نہ ہو ۔ایسا ہو کہ خود بھی نہ جانے کہ یہ جوش میرے میں کیوں ہے ۔ بہت ضرورت ہے کہ ایسے لوگ بکثرت پیدا ہوں ۔مگر سوائے خدا کے ارادہ کے کچھ ہو نہیں سکتا اور جو لوگ اس طرح دینی خدمات میں مصروف ہوئے وہ یاد رکھیں کہ وہ خدا پر کوئی احسان نہیں کرتے ۔ جیسا کہ ہر ایک فصل کے کاٹنے کا وقت آ جاتا ہے ایسا ہی مفاسد کے دور کر دنیے کا اب وقت آگیا ہے ۔
عیسائیت کا زوال کا وقت آگیا ہے
تثلیث پر ستی حد کو پہنچ گئی ہے صادق کی توہین وہ گستاخی انتہاء تک کی گئی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا قدر مکھی اور زنبور جتنا نہیں کیا گیا ۔ زنبور سے بھی آدمی ڈرتا ہے اور چیونٹی سے بھی اندیشہ کرتا ہے ۔مگر حضر ت رسول کریم ﷺ کو بُرا کہنے میں کوئی نہیں جھجکا کَذَّبوُ ابِاٰیَا تِنَآ (البقرۃ:۴۰) کے مصداق ہو رہے ہیں ۔ جتنا منہ اُن کا کھل سکتا ہے انہوں نے کھولا اور منہ پھاڑ پھاڑ کر سب وشتم کئے ۔اب وہ وقت واقعی آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کا تدارک کرے ۔اور ایسے وقت میں وہ ہمیشہ ایک آدمی کو پیدا کیا کرتا ہے ۔وَ لَن تَجِدُ لسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبدِیلاً (الاحزاب:۶۳) وہ ایسے آدمی کو پیدا کرتا ہے جو اس کی عظمت وجلال کے لئے بہت ہی جوش رکھتا ہو ۔ باطنی مدد کا اس آدمی کو سہارا ہوتا ہے ۔ دراصل سب کچھ خدا تعالیٰ آپ کرتا ہے مگر اس کا پیدا کرنا صرف ایک سنت کا پورا کرنا ہوتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے ۔خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کو قرآن کریم میں نصیحت کی تھی کہ اپنے دین میں غلونہ کریں پر انہوں نے اس نصیحت پر عمل نہ کیا اور پہلے وہ صرف ضالین تھے اب مضلین بھی بن گئے ۔خد ا تعالیٰ کے صحف قدرت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بات حد سے گذر جاتی ہے تو آسمان پر تیاری کی جاتی ہے ۔ یہی اس کا نشان ہے کہ اب تیاری کا وقت آ گیا ہے ۔سچے نبی رسول مجدد کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ وقت پر آوے ضرورت کے وقت آوے ۔لوگ قسم کھا کر کہیں کہ کیا یہ وقت نہیں کہ آسمان پر کوئی تیار ی ہو ؟
مگر یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ سب کچھ آپ کرتا ہے ۔ہم اور ہماری جماعت اگر سب کے سب خبروں میں بیٹھ جاویں تب بھی کام ہو جاوے گا اور دجال کو زوال آوے گا ۔تِلکَ الآ یَّا مُ نُدَاوِلّھَا(ال عمران:۱۴۱) اس کا کمال بتاتا ہے کہ اب اس کے زوال کا وقت ہے ۔ اس کا ارتفاع ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ نیچا دیکھے گا ۔ اس کی آبادی اس کی بربادی کا نشان ہے ۔ ہاں ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہے ۔ خدا تعالیٰ کے کام آہستگی کے ساتھ ہو تے ہیں ۔
اگر ہمارے پاس کوئی دلیل بھی نہ ہوتی تو پھر بھی مسلمانوں کو چاہئیے تھا کہ دیوانہ وار پھرتے اور تلاش کرتے کہ مسیح اب تک کیوں آیا ؟ کسر صلیب کے لئے آیا ان کو چاہیے نہیں تھا کہ یہ اس کو اپنے جھگڑوں کے لئے