گئی ۔حضرت نے فرمایا :۔ عرض میں لق چٹنی کو بھی کہتے ہیں ۔ میں نے عرض کی کہ انگریزی میں لق چاٹنے کو کہتے ہیں ۔ فرمایا :۔ چٹنی تک تو بات پہنچ گئی ہے ۔ اُمید ہے مریم پٹی تک بھی بات نکل آوے فرمایا کہ :۔ انگریزی کتابوں اور تا ریخ کلیسیا سے اس کے حالات کے متعلق تحقیقا ت کرنی چائییے یہ ایک نئی بات نکلی ہے ۔ پھر فرمایا کہ :۔ یہ مشکل امر نہیں ہے ۔اگر ہم چاہیں تو لوقا پر توجہ کریں اور اس سے سب حال دریافت کریں مگر ہماری طبیعت اس امر سے کراہت کرتی ہے کہ ہم اللہ کے سوائے کسی اور کی طرف توجہ کریں ۔خدا تعالیٰ آپ ہمارے سب کا م بناتا ہے ۔ کشف قبور پھر فرمایا کہ :۔ یہ لوگ جو کشف قبور لیے پھرتے ہیں یہ سب جھوٹ اور لغو اور بیہودہ بات ہے اور شرک ہے ۔ ہم نے سنا ہے کہ اس طرف ایک شخص پھرتا ہے اور اس کو بڑا دعویٰ کشف قبور کا ہے اگر اس کا علم سچا ہے تو چاہئیے کہ وہ ہمارے پاس آئے اسی کو ایسی قبروں پر لے جائیں گے جن سے ہم خوب واقف ہیں ۔ مگر یہ سب بیہودہ باتیں ہیں اور ان کے پیچھے پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہے ۔ سعید آدمی کو چاہئیے کہ ایسے خیالات میں اپنے اوقات کو خراب نہ کرے اور اس طریق کو اخیتار کرے جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے صحابہ ؓ نے اخیتار کیا ۔ گذی نشینوں کے عرس اس کے بعد صاحبزادہ صاحب نے ایک اشتہار پڑھا جو کہ ان کے بھائی صاحب نے اپنے سلسلہ کے عرس کے واسطے مریدین کو دیا ہے ۔اس میں ہر قسم کے کھانوں اور ہر قسم کے کھیل تماشوں اور نا چ رنگوں اور آتشبازیوں کا نقشہ بڑی مقفی عبارت میں اور رنگین فقروں میں کھچا ہوا تھا ۔اس پر گدی نشینوں کے حالات پر افسوس ہوتا رہا اور مولوی برہان الدین صاحب نے اپنے مشاہدہ کی چند گدیوں اور ان کی مجلسوں کا نقشہ کھینچ کر احباب کو خوش کیا ۔ چونکہ اس میں سرور سے خط اُٹھانے اور سر ور لینے کا ذکر تھا ۔ اس پر