فرمایا :۔ اگر کسی کے باطن میں کوئی حصہ روحانیت کا ہے تو وہ مجھ کو قبول کرے گا ۔ ایک کتاب لکھنے کی خواہش فرمایا کہ :۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک کتاب تعلیم کی لکھوں اور مولوی محمد علی صاحب اس کا ترجمہ کریں ۔ اس کتاب کے تین حصے ہوں گے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہمارے کیا فرائض ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے نفس کے کیا کیا حقوق ہم پر ہیں اور تیسرے یہ کہ نبی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں ۔ اولیاء کی کرامات مشہورہ فرمایا :۔ زمانہ نبوت تو نور علی نور تھا اور ایک آفتا ب تھا لیکن اس کے بعد کے اولیاء کے جو خوارق وکرامات بتلائے جاتے ہیں وہ اپنے ساتھ انکشاف نہیں رکھتے اور ان کی تا ریخ کا صحیح پتہ نہیں لگ سکتا ۔چنانچہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے کرامات ان کے دو سو سال بعد لکھے گئے اور علاوہ اس کے ان لوگوں کو یہ موقعہ مقابلہ دشمن کا نہیں ملا اور نہ ان کو ایسا فتنہ در پیش آیا جیسا کہ ہم کو ۔ ایسی باتوں پر سیر کا وقت ختم ہوا ۔اور رحوں کو ایک تا زگی حا صل ہوئی ۔ لوقا کے بارہ میں تحیقیق کی ضرورت اس کے بعد حضور اقدس ظہر وعصر کی نما ز میں ہمارے ساتھ شامل ہو ئے اور مغرب سے عشاء ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور مغرب سے عشاء کے پڑھ چکنے تک باہر تشریف فرما رہے اور مغرب کے بعد آپ نے ایک مخلص کا خط سنا اور دو اخباریں سنیں ایک تو سیالکوٹ کی جس میں مرہم عیسیٰ کا ذکر ہے اور اس کو سنکر بہت مخطوظ ہوئے میں اُمید کرتا ہوں کہ لکھنے والے کا اجر قائم ہو گیا ۔ خصوصاً ڈاکٹر لوقا کے لفظ پر بہت خو ش ہوئے اور اس کے ڈاکٹر ہونے کے متعلق زیادہ تحقیقات کرنے کے واسطے اس عاجز کو ارشاد صادر فرمایا ۔ نماز فجر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور نماز کے بعد اندر چلے گئے اور اس کے بعد نو بجے کے قریب سیر کے واسطے تشریف لائے اور احباب ہمہ گوش ہو کر ساتھ ہو لیے ۔وہی رات والے مضمون ڈاکٹر لوقا کا ذکر درمیان آیا ۔میاں اللہ دیا صاحب لدھیانوی بھی اتفاقاً ساتھ تھے انہوں نے بھی تصدیق کی کہ لوقا ڈاکٹر تھا مگر یہ ثابت نہیں ہوتا تھا کہ حضرت مسیح کے زمانہ میں تھا ۔اس کے واسطے زیادہ تحقیقات کے لیے میاں اللہ دیا کو بھی ارشاد ہوا ۔ اسی پر بہت دیر تک گفتگو ہوتی چلی