حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ انسان میں ایک ملکہ احتظاظ کا ہوتا ہے کہ وہ سرود سے حظ اُٹھاتا ہے اور اس کے نفس کو دھوکا لگتا ہے کہ میں اس مضمون سے سرور پا رہا ہوں ۔مگر دراصل نفس کو صرف خط در کار ہوتا ہے خواہ اس میں شیطان کی تعریف ہو یا خدا کی جب یہ لو اس میں گرفتا ر ہو کر فنا ہو جاتے ہیں تو ان کے واسطے شیطان کی تعریف یا خدا کی سب برابر ہو جاتے ہیں ۔ ہماری مخفی جماعت اس پر آج کا سیر ختم ہو ا۔ لیکن کل کے سیر میں ایک بات رہ گئی تھی جس کو میں نے اب عرض کرنا چاہتا ہون اور وہ یہ ہے کہا ٓپ نے فرمایا کہ :۔ ابھی ہمارے مخالفوں میں سے بہت سے ایسے آدمی بھی ہیں جن کا ہماری جماعت میں داخل ہونا مقدر ہے ۔وہ مخالف کرتے ہیں پر فرشتے ان کو دیکھ کر ہنستے ہیں کہ تم بالا ٓخر انہی لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے وہ ہماری مخٖفی جماعت ہے جو کہ ہمارے ساتھ ایک دن مل جائے گی ۔ خدا تعالیٰ کی توحید وتفرید کے لئے جو ش کی ضرورت پھر کھانے کے وقت حضور اقدس تشریف لائے اور روٹی کھانے کے بعد حضور اقدس نے ایک تقریر فرمائی جو دلوں کے واسطے نور اور ہدایت حا صل کرنے کا موجب ہوئی ۔ جو کچھ اس میں سے ضبط رکھ سکا وہ آپ کو سناتا ہوں آپ توجہ سے سنیں ۔اس زمانہ کے فتنہ فساد کا ذکر تھا ۔ فرمایا :۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس زمانہ کے درمیان جو فتنہ اسلام پر پڑا ہوا ہے اس کے دور کرنے میں کچھ حصہ لے جاوے بڑی عبادت یہی ہے کہ اس فتنہ کے دور کرنے میں ہر ایک حصہ لے ۔اس وقت جو بدیاں اور گستاخیاں پھیلی ہوئی ہیں چاہئیے کہ اپنی تقریر اور علم کے ساتھ اور ہر ایک قوت کے ساتھ جو اس کو دی گئی ہے مخلصانہ کو شش کے سا تھ ان باتوں کو دنیا سے اُٹھاوے ۔اگر اسی دنیا میں کسی کو آرام اور لذت مل گئی تو کیا فائدہ ؟ اگر دنیا میں ہی اجر پا لیا تو کیا حاصل ؟ عقی کا ثواب لو جس کا انتہا ء نہیں ۔ ہر ایک کو خدا کی توحید وتفرید کے لیے ایسا جوش ہونا چاہئیے جیسا خود خدا کو اپنی توحید کو جوش ہے غور کرو کہ دنیا میں اس طرح کو مظلوم کہاں ملے گا ۔جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ ہیں ۔کوئی گند اور گالی اور دشنام نہیں جوا ٓپ کی طرف نہ پھنکی گئی ہو کیا یہ وقت ہے کہ مسلمان خو موش ہو کر بیٹھ رہیں ۔ اگر اس وقت میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا اور حق کی گواہی دے کر جھوٹے کے منہ کو بند نہیں کرتا اور جائز رکھتا ہے کہ کافر بے حیائی سے ہمارے نبی پر اتہام لگا تا جائے اور لوگوں کو گمراہ کرتا