فرمایا :۔
آپ دو چار دن اور ٹھہریں ۔میں انتظار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ خود بخود استقامت کے ساتھ کوئی بات دل میں ڈال دے تو میں آپ کو لکھ دوں ۔
پھر فرمایا کہ :۔
جب تک ان لوگوں کو استقامت حسن نیت کے سا تھ چند دن کی صحبت نہ حا صل ہو جاوے تب تک مشکل ہے ۔ چاہیے کہ نیکی کے واسطے دل جوش مارے اور خدا کی رضا کے حصول کے لیے دل ترساں ہو ۔
اس شخص نے عرض کی کہ ان لوگوں کو اکثر یہ حجاب بھی ہوتا ہے کہ شاید کسی کو معلوم ہو جاوے تو لوگ ہمارے پیچھے پڑھا ویں ۔
فرمایا :۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ایسے لوگ لا الہٰ الا اللّٰہ کے قائل نہیں ہوتے اور سچے دل سے اس کلمہ کو زبان سے نکالنے والے نہیں ہوتے ۔ جب زید وبکر کا خوف درمیان میں ہے تب تک لا الہٰ الا اللّٰہُ کا نقش دل میں نہیں جم سکتا ۔
فرمایا :۔
یہ جو رات دن مسلمانوں کا کلمہ طیبہ کہنے کے واسطے تائید اور تا کید ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ بغیر اس کے کوئی شجاعت پیدا نہیں ہو سکتی ۔ جب آدمی لا الہٰ الا اللّٰہ کہتا ہے تو تمام انسانوں اور چیزوں اور حاکموں اور افسروں اور دشمنوں اور دوستوں کی قوت اور طا قت ہیچ ہو کر صرف اللہ کو دیکھتا ہے اور اس کے سوائے سب اس کی نظروں میں ہیچ ہو جاتے ہیں پس وہ شجاعت اور بہادری کے ساتھ کام کرتا ہے اور کوئی ڈرانے والا اس کو ڈرا نہیں سکتا ۔
فراست
فرمایا :۔
فراست بھی ایک چیز ہے جیسا کہ اس یہودی نے دیکھتے ہی حضرت رسول کریم ﷺ کو کہد یا کہ میں ان میں نبوت کے نشان پاتا ہوں اور ایسا ہی مباہلہ کے وقت عیسائی حضرت رسول کریم ﷺ کے سامنے نہ آئے کیونکہ ان کے مشیر نے ان کو کہہ دیا تھا کہ میں ایسے مونہہ دیکھتا ہوں کہ اگر وہ پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے ٹل جا تو وہ ٹل جائے گا ۔