معاملہ نازک ہو جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو جو معجزہ عطا فرمایا ہے وہ علیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم اور اصول تمدن کا ہے اور اس کی بلا غت اور فصاحت کا ہے جس کا مقابلہ کوئی انسان کر نہیں سکتا اور ایسا ہی معجزہ غیب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نشانات کو ایک تمیز صاف عطا فرمائی ہے تا کہ کسی شخص کو حیلہ حجت بازی کا نہ رہے اور اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے نشانات کھول کھول کر دکھائے ہیں جن میں کوئی شک وشبہ اپنا دخل نہیں پیدا کر سکتا ۔ ایک شخص نے کہا کہ کوئی اعتراض کرتا تھا کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کو آپ مروا ڈالا فرمایا :۔ ایک بہیودہ اور جھوٹ بات ہے مگر ان لوگوں کو یہ تو خیال کرنا چاہئیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع اور کعب کو کیوں قتل کر ا دیا تھا ۔ ؟ فرمایا :۔ ہماری پیشگوئیاں سب اقتداری پیشگوئیاں ہیں اور یہ نشان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں ۔ قرآن شریف کا اعجاز فرمایا :۔ لوگوں کی فصاحت اور بلا غت الفاظ کے ماتحت ہوتی ہے اور اس میں سوائے قافیہ بندی کے اور کچھ نہیں ہوتا ۔جیسے ایک عرب نے لکھا ہے سَا فَرتُ اِلیٰ رُومَ وَآنَا عَلیٰ جَمَلِِ مَالُوم میں روم کو روانہ ہوا ۔ اور میں ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوا جس کا پشاب بند تھا ۔یہ الفاظ صرف قافیہ بندی کے واسطے لائے گئے ۔یہ قرآن شریف کا اعجاز ہے کہ اس میں سارے الفاظ ایسے موتی کی طرح پروئے گئے ہیں اور اپنے اپنے مقام پر رکھے گئے ہیں کہ کوئی ایک جگہ سے اُٹھا کر دوسری جگہ نہیں رکھا جا سکتا اور کسی کو دوسرے لفظ سے بدلا نہیں جا سکتا ۔لیکن اس کے باوجود اس کے قافیہ بندی اور فصاحت وبلاغت کے تمام لوازم موجو د ہیں۔ کلمہ طیبہ کے بغیر حقیقی شجاعت پیدا نہیں ہوتی ایک شخص نے کسی صوفی گدی نشین کی تعریف کی کہ وہ آدمی بظاہر نیک معلوم ہوتا ہے اور اگر اس کو سمجھایا جاوے تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس بات کو پا جاوے اور عرض کی کہ میرا اس کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہے کہ اگر حضور مجھے ایک خط ان کے نام لکھ دیں تو میں لے جاؤں اور امید ہے کہ ان کو فائدہ ہو۔