اللہ تعالیٰ کا طریق ہے کہ جس راہ سے کوئی بدی کرے اسی راہ سے گرفتار کیا جاتا ہے ۔چونکہ لیکھرام نے زبان کی چھری کو اسلام کے بر خلاف حد سے بڑھ کر چلایا ۔اس واسطے خدا نے اس کو چھری سے سزا دی ۔ فرمایا :۔ لیکھرام کے معاملہ میں غیب کا ہاتھ کام کرتا ہوا صاف دکھائی دیتا ہے ۔ایک شخص کا شدھ ہونے کے لیے اس کے پاس آنا اس کا اس پر بھروسہ کرنا یہاں تک کہ اپنے گھر میں بلا تکلف اس کو لے جانا ۔شام کے وقت دیگر ملاقاتیوں کو چلاجانا ۔ان کا اکیلا رہ جانا عین عید کے دوسرے دن اس کا اس کام کے لیے عازم ہونا ۔لیکھرام کا لکھتے لکھتے کھڑے ہو کر انگڑائی لینا اور اپنے پیٹ کو سامنے نکالنا اور چھری کا وار کاری پڑنا مرتے وقت تک اس کی زبان کو خدا تعالیٰ نے ایسا بند کرنا کہ باوجود ہوش کے اور اس علم کے کہ ہم نے اس کے بر خلاف پیشگوئی کی ہوئی ہے ایک سیکنڈ کے واسطے اس شبہ کا اظہار بھی نہ کرنا کہ مجھے مزرا صاحب پر شک ہے ۔پھر آج تک اس کے قاتل کا پتہ نہ چلنا یہ سب خدا کے فعل ہیں جو ہیبت ناک طور پر اس کی قدرت اور طا قت کو جلوہ دے رہے ہیں ۔ فرمایاکہ :۔ لیکھرام بڑا ہی زبان دراز تھا اور اس کے بعد ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا کیونکہ اِذَا ھَلَک کِسرٰی فَلاَ کسرٰی بَعدَہٗ اب اللہ تعالیٰ زمین کو ایسے لوگوں سے پاک رکھے گا ۔ معجزات اور شعبدہ بازی میں فرق فرمایا کہ :۔ دنیا کے اندر جو نشانات حضرت موسیٰ یا دیگر انبیاء نے اس طرح کے دکھائے جیسا کہ سوٹے سے رسی کا سانپ بنانا ۔یہ سب شبہ میںڈالنے والی باتیں ہیں۔خصوصاً اس زمانہ کے درمیان جب کہ ہر طرح کی شعبدہ بازیاں مداری لوگ دکھاتے ہیں کہ انسان کی سمجھ میں ہرگز نہیں آتا کہ یہ امر کس طرح سے ہو گیا اور انگریز لوگ ایسے ایسے کر توت شعبدہ بازی کے دکھاتے ہیں کہ مرا ہو آدمی واپس آجاتا ہے اور ٹوٹی ہوئی چیزیں ثابت دکھائی دیتی ہیں جیسا کہ آئین اکبری میں بھی ابو الفضل نے ایک قصہ بیان کیا ہے کہ ایک شعبدہ باز آسمان پر لوگوں کے سامنے چڑھ گیا اور اُوپر سے اس کے اعضا ء ایک ایک ہو کر وزیر پر شبہ کیا کہ اُس نے چھپا رکھی ہے اور یہ اس پر عاشق ہے اور پھر اس کی تلاشی کی اجازت بادشاہ سے لے کر اسی کی بغل سے نکالی لی ۔ فرمایا :۔ ایسی صورتوں میں پھر سوائے اس کے اور کچھ باقی نہیں رہتی ہے کہ انسان ایمان سے کام لے اور انبیاء کے کاموں کو خدا کی طرف سے سمجھے اور شعبدہ بازوں کے کاموں کو دھوکا اور فریب خیال کرے اور اس طرح سے یہ