نو بجے کے قریب سیر کے واسطے تشریف لائے ۔ ملتے ہی فرمایا :۔
آپ نے اس کام میں خوب ہمت کی
انگریز ی دانوں کے لئے حصول ثواب کی راہ
فرمایا :۔
اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ہم نے انگریزی نہیں پڑھی کہ آپ لوگوں کو ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہے ۔ انگریزی اگر ہم پڑھے ہوئے ہوتے تو اردو کی طرح اس کے بھی دو چار صفحے ہم لکھ دیا کرتے مگر خدا نے چاہا کہ جیسے آ پ ہیں اور مولوی محمد علی صاحب ہیں آپ لوگوں کو بھی یہ ثواب دیا جاوے ۔
میں نے عرض کی کہ یہ ہمیت اور ثواب تو مولوی محمد علی صاحب کی ہی ہے ۔
فرمایا کہ :۔
علمگیر کے زمانہ میں مسجد شاہی کو آگ لگ کئی تو لوگ دوڑے بادشاہ سلامت کے پا س پہنچے اور عرض کی کہ مسجد کو تو آگ لگ گئی ۔اس خبر کو سنکر وہ فوراً سجدہ میں گرا اور شکر کیا ۔ حاشیہ نشینوں نے تعجب سے پوچھا کہ حضور سلامت یہ کونسا وقت شکر گذاری کا ہے کہ خانہ خدا کو آگ لگ گئی اور مسلمانوں کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچا ہے ۔ تو بادشاہ نے کہا کہ میں مدت سے سوچتا تھ اور آہ سر د بھرتا تھا کہ اتنی بڑی عظیم الشان مسجد جو بنی ہے ۔اور اس اعمارت کے ذریعہ سے ہزار ہا مخلوقات کو فائدہ پہنچتا ہے ۔کوش کوئی ایسی تجویز ہوتی کہ اس کا ر خیر میں کوئی میرا بھی حصہ ہوتا لیکن چاروں طرف سے میں اس کو مکمل اور بے نقص دیکھتا تھا کہ مجھے کچھ سوجھ نہ سکتا کہ اس میں میرا ثواب کس طرح ہو جاوے ۔سو آج خد ا نے میرے واسطے حصول ثواب کی ایک راہ نکال دی ۔ وَاللّٰہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ (البقرۃ:۲۲۵)
تین آریہ معاندین اسلام
پھر لیکھرام کے متعلق دیر تک باتیں ہوتی رہیں ۔فرمایا :۔
اسلام پر حملہ کرنے میں اور مسلمانوں کے بے جا دل دکھانے میں آریوں کے درمیان ایک طرح کی تریمورتی تھی جن میں سے سب سے بڑھ کر لیکھرام تھا اور اس کے بعد اندر من اور لکھ دھاری تھے ۔
فرمایا کہ :۔
دیانند بھی تھا مگر اس کو ایسا موقعہ نہیں ملا تھا اور نہ وہ اس طرح سے کتابیں لکھتا تھا ۔
فرمایا :۔ ان تینوں نے اور خصوصاً لیکھرام نے بڑی بے ادبیاں حضرت رسول اللہ ﷺ کی کی تھیں ۔