کرنا اور باہم عورتوں کا سرٹکرا کر چلانا رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر میں یا ہماری برادری میں ماتم ہوگیا ہے ۔ یہ سب ناپاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پرہیز کرنا چاہئے۔ (۳) سیاپا کرنے کے دنوں میں بے جا خرچ بھی بہت ہوتے ہیں۔ حرامخور عورتیں شیطان کی بہنیں جو دور دور سے سیاپا کرنے کے لئے آتی ہیں اور مکر و فریب سے منہ کو ڈھانپ کر اور بھینسوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر چیخیں مارکر روتی ہیں ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ہیں اور اگر مقدور ہو تو اپنی شیخی اور بڑائی جتلانے کے لئے صدہا روپیہ کا پُلائو اور زردہ پکاکر برادری وغیرہ میں تقسیم کیا جاتاہے ۔ اس غرض سے کہ لوگ واہ واہ کریں کہ فلاں شخص نے مرنے پر اچھی کرتوت دکھلائی ۔ اچھا نام پیدا کیا۔ سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے توبہ کرنا لازم ہے۔ (۴)اگر کسی عورت کا خاوند مرجائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیسا کہ کوئی بڑا بھاری گناہ ہوتاہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈرہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاکدامن بیوی ہو گئی ہوں۔ حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے ۔ عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایث ثواب کی بات ہے۔ ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کر لے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے ۔ ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں۔ جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتاہے ۔ جس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیارا ہے اُس کو چاہیئے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کر لے اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صدہا درجہ بہتر ہے ۔ (۵)عورتوں میں ایک خراب عادت یہ بھی ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ بُرا بھلا اُن کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ ایسی عورتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں ۔ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم نہ بجالائے اور پس پشت اس کے لئے اس کی خیرخواہ نہ ہو۔ اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار رہیں ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو