اصل میں اس کفارہ کی وجہ سے ہی دنیا میں گناہوں کی کثرت ہو رہی ہے مگر جب عیسائیوں کو کہا جاتا ہے کہ کفارہ نے دنیا میں گناہ پھیلایا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ کفارہ صرف نجات کے لئے ہے ۔ورنہ جب تک انسان پاک نہ ہو اور گناہوں سے پرہیزنہ کرتا ہو کفارہ کچھ نہیں ۔مگر جب انہی لوگوں کی طرف دیکھا جاتا ہے جو اس قول کے کہنے والے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہیں ۔ایک دفعہ ایک پادری کسی گندگی کی وجہ سے پکڑا گیا تو اس نے جواب دیا کہ کفار ہو چکا ہے اب کوئی گناہ نہیں ۔اگر کفارہ گناہ کرنے سے نہیں بچاتا تو اس کا کیا فائدہ ؟
چنانچہ اس کا جواب عیسائی کچھ نہیں دے سکتے ۱؎ ۔
غیروں کے پچھے نما ز
۱۷ مارچ ۱۹۰۸ء کو ایک صاحب علاقہ بلوچستان نے حضرت اقدس کی خدمت میں خط لکھا کہ ’’ آپ کو ایک مرید نو ر محمد نام میرا دلی دوست ہے ۔وہ بڑا نمازی ہے ۔نیکو کار ہے سب اس کی عزت کرتے ہیں ۔ہمہ صفت موصوف خلیق شخص ہے ۔دیندار ہے ۔ اس سے ہم کو آپ کے حالات معلوم ہوئے تو ہمارا عقیدہ یہ ہوگیا ہے کہ حضوربڑے ہی کیر خواہ اُمت محمدیہ ومداح جناب رسول مقبول واصحاب کبار ہیں ۔آپ کو جو برے نا م سے یاد کرے وہ خود بُرا ہے مگر باوجود ہمارے اس عقیدہ وخیال کے نور محمد مذکو ہمارے ساتھ باجماعت نماز نہیں پڑھتا اور نہ جمعہ پڑھتا ہے اور وجہ ہمارے اس عقیدہ وخیال کے نور محمد مذکو ر ہمارے
ساتھ باجماعت نماز نہیں پڑھتا اور نہ جمعہ پڑھتا ہے اور وجہ سے بتلاتا ہے کہ غیر احمدی کے پچھے ہماری نماز نہیں ہوتی ۔آپ اس کو تاکید فرما دیں کہ ہمارے پچھے نماز پڑھ لیا کرے ۔تا کہ تفرقہ نہ پڑے کیونکہ ہم آپ کے حق میں بُرا نہیں کہتے ‘‘ یہ اس خط کا اقتباس اور خلاصہ ہے اس کے جواب میں اسی خط پر حضرت نے عاجز ۲؎ کے نام تحریر فرمایا :
جواب میں لکھ دیں کہ چونکہ عام طور پر اس ملک کے ملاں لوگوں نے اپنے تعصب کی وجہ سے ہمیں کافر ٹھہرایا ہے اور فتوے لکھے ہیں اور باقی لوگ ان کے پیرو ہیں ۔پس اگر ایسے لوگ ہوں کہ وہ صفائی ثابت کرنے کے لئے اشتہار دے دیں کہ ہم ان مکفر مولویوں کے پیرو نہیں ہیں تو پھران کے ساتھ نماز پڑھنا روا ہے ورنہ جو شخص مسلمانوں کو کافر کہے وہ آپ کافر ہو جاتا ہے پھر اس کے پچھے نماز کیونکہ پڑھیںیہ شروع شریف کی رو سے جائز نہیں ہے ۔