تعلیم یافتہ لوگ اب تک اس کے ولداوہ ہیں ۔اسلام اس کا بالکل ناجائز قرار دیتا ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ رزق کریم متقی کو ضرور ملتا ہے اور وہ رزق جس سے فائدہ پہنچے کریم ہی ہوتا ہے ۔ورنہ بہت سے ایسے مال ہوتے ہیں ۔ جو ناجائز طریقوں سے کمائے جاتے اور ناجائز باتوں میں اور فضول رسومات میں اُٹھ جاتے ہیں ۔حالانکہ محنت اور نیکی سے کمایا ہوا روپیہ اپنے اصل موقعہ پر خرچ ہو تا ہے جیسا کہ ان دو بھائیوں کے قصہ سے ظاہر ہے کہ خد ا تعالیٰ نے آبُو ھُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳) کی وجہ سے دو نبیوں کو اس بات پر مامور کیا کہ اس روپیہ کی حفاظت کے لئے جو کہ نیکی اور تقویٰ سے کمایا ہوا تھا ایک دیوار بنائیں ۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ فِی السَّمَآ ئِ رزکُم وَمَا تُوعَدُونَ فَوَرَبِّ السَّمَآ ئِ وَالارضَ اِنّہٗ لَحَقٌ مّثلَ مَآ آنَّکُم تَنطقُونَ (الذاریات:۲۴) یعنی ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ اپنے پاس سے روزی دیتا ہے ۔ حضرت داؤد کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور بوڑھا ہو گیا ہوں مگر آج تک میں نے کسی صالح کی اولاد کو ٹکڑے مانگنے نہیں دیکھا ۔اسی طرح توریت میں ہے کہ نیک بخت انسان کا اثر اس کی سات پشت تک جاتا ہے پھر قرآن مجید میں بھی ہے ۔ کان آبُو ھُمَا صَالِحًا(الکھف:۸۳) یعنی ان کا باپ صالح تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے ان کا خزانہ محفوظ رکھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ ایسے نیک نہ تھے ۔باپ کی نیکی کی وجہ سے بچائے گئے ۔ پس انسان کے لیے متقی اور نیک بنتا کیمیا گر سے بہت بہتر ہے ۔اس کیمیا گری میں تو روپیہ ضا ئع ہو تا ہے مگر اس کیمیا گری میں دین بھی اور دنیا بھی دو نو سدھر جاتے ہیں ۔افسوس ہے ان لوگوں پر جو ساری عمر یونہی فضول ضائع کر دتیے ہیں اور کیمیا کی تلاش میں ہی مر جاتے ہیں حالانکہ اس کوچہ میں سوائے نقصان مال اور نقصان ایمان اور کچھ نہیں اور ایسا شخص یکے نقصان مایہ ودیگر شماتت ہمسایہ کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔ اصل کیمیا تقویٰ ہے جس نے اس کو حا صل کر لیا اس نے سب کچھ حا صل کر لیا اور جس نے اس نسخہ کو نہ آزمایا اُس نے اپنی عمر ضا ئع کی ۔اگر کیمیا واقعی ہو بھی تو بھی اس کے پچھے عمر کھونے والا کبھی متقی اور پرہیز گار نہیں ہو سکتا ۔جس کو رات دن دنیا کی محبت لگی رہے گی وہ اپنے پاک اور پیارے خدا کی محبت کو اپنے دل میں کس طرح جگہ دے گا ۔ عقیدہ کفارہ کفارہ کی نسبت فرمایا کہ :۔ عیسائی کفارہ پر اس قدر زور دیتے ہیں حالانکہ یہ بالکل لغوبات ہے ۔ انکے اعتقاد کے موافق مسیح کی انسانیت قربان ہو گئی ۔مگر صفت خدائی زندہ رہی ۔ اب اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وہ جو دنیا کے لیے فدا ہو وہ تو ایک انسان تھا خدا نہ تھا ۔ حالانکہ کفارہ کے لیے بموجب انہی کے اعتقاد کے خدا کو قربان ہونا ضروری تھا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک انسانی جسم فدا ہوا اور خدا زندہ رہا ۔اور اگر خدا فدا ہو تو اس پر موت آئی ۔