کہا روپیہ کہ کیا بات ہے اور اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا ۔ اس ذومعنے جواب پر اس شخص کو کچھ خیال پیدا ہو ۔اور اس نے اس سے پوچھا کہ کیا تم کچھ کیمیا ء جانتے ہو ۔اس نے کہا ہاں استاد صاحب جانتے تھے اور بہت اصرار کے بعد مان لیا کہ مجھ کو بھی آتا ہے پر میں کسی کو بتانا نہیں ۔چونکہ تم بہت پیچھے پڑے ہو اس لئے کچھ تم بتا دیتا ہوں ۔ اور یہ کہہ کر اس کو گھر کا زیور اکٹھا کرنے کی ترغیب دی اور کچھ مدت تک باہر میدان میں جا کر وظیفہ پڑھتا رہا ۔ ایک دن زیور لے کر ہنڈیا میں رکھنے لگا مگر کسی طرح اس زیور کو تو چرا لیا اور اس کی جگہ اینٹیں اور روڑے بھر دئیے اور خود وظیفہ کے بہانے باہر چلا گیا اور جاتے وقت کہہ گیا کہا س ہنڈیا کو بہت سے اُپلوں میں رکھکر آگ دو ۔مگر دیکھنا کچا نہ اُتارنا بلکہ جب تک میں نہ آؤں اسے ہاتھ نہ لگانا ۔اس نے اس کے کہنے کے مطابق اس ہنڈیا کو خو ب آگ دی اور اس قدر دھواں ہوا کہ ہمسائے اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلوا کر اندر گئے اور جب اُس سے پوچھنے پر معلوم کیا کہ کیمیا بن رہا ہے تو انہوں نے اس شخص کو اسمجھایا کہ وہ تجھے لوٹ کر لے گیا اور جب ہنڈیا کھولی تو اس میں سے روڑے نکلے ۔چنانچہ وہ شخص جب کسی کام کے لیے گورداسپور گیا تو اُسے وہاں معلوم ہو ا کہ وہی شخص کسی اور کو دھوکہ دے گیا ہے اور وہاں آگ جل رہی ہے ۔پس اس نے ان کو بھی سمجھا دیا کہ مجھ کو بھی لوٹ کر لے گیا اور وہاں بھی ہنڈیا کھولنے پر اینٹ پتھر ہی نکلے ۔
اسی طرح قادیان کے پاس ایک گاؤں ہے ۔ وہاں ایک کیمیا گر آیا اور مسجد میں ٹھہر ا مسجد والے سے پوچھا کہ یہ مسجد ٹوٹی پھوٹی ہے اس کو بناتے کیوں نہیں ؟ اس نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں یہ مسجد بنی تھی اب ہم غریب ہیں اس قدر روپیہ نہیں ۔اس نے کہا کہ نہیں روپیہ کا کیا ہے بندوبست ہو جائے گا اور پوچھے جانے پر جواب دیا کہ میں چاندی بنا سکتا ہوں ۔چنانچہ ا س شخص نے پچیس روپے دئیے اور وہ کیمیا گر اس کو لے کر بٹالہ آیا اور وہاں پہنچ کر اس کو صاف کی ہوئی قلعی دیدی وہ شخص بیچارہ سادہ لوح تھا فرق نہ کر سکا اور اپنے گاؤں آکر سنار کو دکھلائی تو معلوم ہوا کہ بالکل بے قیمت ہے ۔
اسی طرح ایک ڈپٹی صاحب تھے جن کو مدت سے کیمیا کا شوق تھا اور اس میں بہت روپیہ ضائع کر چکے تھے ۔ایک دن ایک آدمی اُن کے پاس آیا اور کہا کہ میں کیمیا بنافی جانتا ہوں مگر سامان وغیرہ کے لئے پانچ سو روپیہ درکا رہے ۔وہ ڈپٹی صاحب فوراً دلوا دیا ۔روپیہ لے کر وہ شخص ایک پاس کی دکان میں بیٹھ گیا اور ڈپٹی صاحب کو کہلا بھیجا کہ روپیہ تو میں لے چکا ۔اب مو مرضی ہو کرو ۔میں نہیں دیتا لینا ہے تو عدالت میں نالش کرو ۔ ڈپٹی صاحب اب ایسے بو ڑھا پے میں نالش کس طرح کرتے اور کرتے تو اپنی بے عزتی ہوتی ۔چپ ہو رہے غرض یہ سب بیہودہ ہے ۔
کیمیا کی مرض پہلے زمانہ میں تو عام طور پر تھی اور ہنود اس میں مدت سے پھنسے ہوئے تھے مگر افسوس بعض