وہ اپنی خلافت کے زمانے میں اصل قرآن کو شائع کر جاتے ۔کیا جس قرآن مجید کی اشاعت نبی کریم ﷺ کے سامنے ہزاروں مخالف وموافق لوگوں میں ہوتی رہی ہو اس میں کچھ تغیر ممکن تھا ؟ یہ کیسی لغو بات ہے ۔
پھر ہم پوچھتے ہیں کہ ان ہی خلفاء کے پچھے حضرت علیؓ نمازیں پڑھتے رہے اگر ان کی غاصب ظالم ہونے کو یقین تھا تو ایسا کیوں کیا ؟ دیکھو ہمارے مرید ہیں وہ دوسروں کے پچھے نماز نہ پڑھیں گے تو کیا حضرت علی ؓ ان سے بھی ایمانی حالت میں کمزور تھے جو تقیہ کرتے رہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے ۔ایسی بات ہو تو ہجرت کر جاؤ آپ نے یہ بھی نہ کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ خلفائے ثلاثہ کو اپنا مقتداء تسلیم کرتے تھے ۔
امرا ء اہل اللہ کے محتاج ہوتے ہیں ۔
فرمایا :۔
شَرُّ ا لافُقَرَائِ مَن ھُوَ بَابِ الاُمرائِ ۔ یہ لوگ اولیاء انبیاء اللہ تعالیٰ سے بہتری پاتے ہیں ۔پس انہیں امراء کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے ہاں امراء ان کے محتاج ہیں ۔
اللہ تعالی کا احسان
فرمایا :۔
لوگ دین حق اخیتار کر کے داعی اللہ پر احسان رکھتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے کہا یہ تو میرا احسان ہے کہ تمہیں ہلاکت سے بچا لیا ۔تم بجائے احسان نمائی کے نبی کا شکر یہ ادا کرو ۔
کیمیا ء گری اور رزق کریم
فرمایا کہ :۔
بہت سے لوگ کیمیا ء کی فکر میں لگے رہتے ہیںاور عمر کو ضا ئع کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ کچھ حاصل کریں جو کچھ پاس ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتے ہیں۔ایک شخص بٹالہ کا رہنے والا تھا جو کہ کسی قدرغربت سے گذارہ کرتا تھا اور اس نے جو مکان رہائش کے لئے بنایا تھا اس کے باہر کی ایک ایک اینٹ تو پکی تھی اور باقی اندر سے کچا تھا ۔ایک دن اسے ایک فقیر ملا جو بہت وظیفہ پڑھتا رہتا تھا اور ظاہراً نہایت نیک معلوم ہوتا تھا ۔کچھ مدت کے بعد اس فقیر نے بڑی سجیدگی سے اُس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ مکان اس طرح پر کیوں بنایا ہے کیوں نہیں سارا پختہ بنا لیتے ۔اس نے جواب دیا کہ روپیہ نہیں غریب ہوں ۔اس فقیر نے