ان کتب میں اصل الا صول ہے جس کا ثبوت مدت ہائے درازے اہل ہنود کے کروڑوں رشی اور پنڈت بزرگ اپنے عملی نمونے سے دنیا میں قائم کر گئے ہیں اور یا اگر پنڈت دیانند کو اپنے دعویٰ میں سچا مان لیں اور ان متقدمین کو جو ان کتابوں کے اصل وارث اور اہل تھے ۔ غلطی پر خیال کر لیں تو یوں ماننا پڑے گا کہ وید گونگے ہیں اور وہ اپنے ظہار مطلب سے بالکل عاری ہیں ۔توحید اور بت پرستی میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر ان دونوکا سرچشمہ وہی کتب مقدسہ یعنی وید ہی بتایا جاتا ہے ۔ایک طرف متقدبین اہل ہنود انہی ویدوں کی ہاتھ میں لیکر بت پرستی ثابت کرتے ہیں اور موحدوں سے مباحثہ کرتے ہیں ۔دوسری طرف انہی پاک کتب سے آج کل موجود ہ نسل کے دیانیدی خیال کے لوگ جو بلحاظ زمانہ اور زبان کے بہت پچھے کی نسلیں ہیں وہ انہی کتب سے توحید نکالتے ہیں کہ اپنے اظہار مطلب سے عا جزاور عاری ہیں ۔بھلا کبھی کسی مسلمان کو بھی بت پرستی اور مورتی پوجا کا حامی دیکھا یا سنا ہے ۔ قرآن نے توحید کے مسئلہ کو ایسا صاف اور بین دلائل سے کھلے کھلے طور پر بیان کیا ہے کہ بت پرستی کا کبھی کسی مسلمان کے دل میں وہم وگمان تک بھی نہیں پیدا ہوا ۔ فرمایا کہ :۔ چشمہ معرفت میں ہم نے ان لوگوں کے کل اعتراض کو پورے طور سے ہمیشہ کے واسطے فیصلہ ہی کر دیا ہے ۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر کوئی حق جو انسان تعصب اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر حق کی تلاش کے واسطے ہماری اس کتاب کو اول سے آخر تک پڑھ لے گا تو وہ کم ازکم کبھی اسلا م کے بر خلا ف زبان یا قلم نہیں اُٹھا سکتا پوری توجہ سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نظر انصاف سے پڑھنا شرط ہے ۔ ۱؎ ۱۷ مارچ ۱۹۰۸؁ء حضرت علی ؓ خلفاء ثلاثہ کو اپنا مقتداء تسلیم کر تے تھے ۔ فرمایا :۔ شیعہ کہتے ہیں قرآن مجید میں کچھ کمی بیشی ہے ۔ اس اعتراض کی زد میں سب سے پہلے وہی آتے ہیں ۔حضرت علی ؓ اس لیے خلفیہ نہیں ہوئے تھے کہ معاویہ کے ساتھ جنگ کریں بلکہ ان کا فرض تھا کہ قرآن شریف کی حفاظت کریں جو اصل الاصول دین ہے ۔پس