کچھ ضرورت نہیں تمہیں ثواب ہو گیا ۔ اب تکلیف مت کرو
مگر اس نے نہ مانا اور اصرار کیا ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :
اچھا میاں شادی خاں کو دید و ۔وہ ہمارے واسطے لے آوے گا
مگر اس شخص نے نہایت ہی الحا ح سے عرض کی کہ نہیں حضور ٹھہر ہ جاویں اور حضور کے سارے ساتھی گنوں کی دعوت قبول کریں ۔ یہ کہہ کر لپٹ گیا اور حضور کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کھیت میں لے گیا حضرت اقدس مسکرائے اور اس کے کھیت میں چند منٹ تک ٹہلتے رہے ۔اتنے میں اس نے گنے لا ڈھیر کئے ۔چنانچہ حضرت کے تمام ساتھیوں نے لے لیے ۔چلنے سے پہلے حضرت اقدس نے نہایت لطف اور مہربانی سے مسکرا کر رخصت ہوئے ۔اس واقعہ سے حضرت کے ہمراہیوں پر خا ص اثر ہوا کہ لطف اور شفقت سے اور فراخدلی سے حضرت اقدس اس سے پیش آئے اور یہ آپ کے اخلاق حمیدہ کا ایک نمونہ تھا ۔
ویدوں میں مورتی پوجا اور توحید
فرما یا:۔
ہر قوم کی اصلی تعلیم کا خواہ اس پر ہزاروں ہی برس کیوں نہ گذر جائیں کچھ نہ کچھ اثر یا نمونہ بطور بیچ کے رہ ہی جاتا ہے ۔ویدوں میں اگر توحید کا کوئی بھی شعبہ موجو د ہوتا تو اس تعلیم کا اثر اس کے ماننے والوں میں ضرور کچھ نہ کچھ تو پایا جاتا ۔کروڑوں نمونے بت پرستی کے موجو د ہیں ۔لاکھوں مندروں میں طرح طرح کے بت رکھے ہیں بلکہ اکثرروں میں تو فحش اور ننگی مورتیاں ان کے تمدن اور ودں کی تعلیم کی اصلیت کا راز عملی طور سے دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں ۔ علمی رنگ میں انکی کتب جو دیانند سے پہلے اسلام کے مقابل میں علم مناظرہ میں لکھی گئی ہیں وہ ان کی تعلیم کی اصلیت ظاہر کرتی ہیں ۔ چنانچہ وہ لوگ ہمیشہ مسلمان موحدوں کے مقابلہ میں پت پرستی کے اثبات کے دلائل اپنی انہی کتب متبرکہ یعنی ویدوں سے پیش کیا کرتے تھے ۔اور ان کی ساری جدوجہد مورتی پوچا کے اثبات کے لیے ہوا کرتی تھی سوائے چند ان آدمیوں کے جن کو دیانند نے پیدا کیا ہے ۔کل بڑے بڑے علماء اور فضلاء مورتی پوجا ہی کے معتقد تھے اب ہم ان لاکھ در لاکھ پنڈتوں اور مقد مین بزرگان اہل ہنود کو ان معدود سے چند دیا دیانندی خیال کے مقلدوں کے مقابلہ میں کس طرح جھوٹا جان سکتے ہیں ۔ والفضل للمتقدمہ ۔
یہ بات دو حال سے خالی نہیں ۔ یا تو یہ دعویٰ توحید پنڈت دیانند کا زمانہ حال کی موجودہ روش اور ترقی کو دیکھ کر خود ساختہ مسئلہ ہے اور دراصل ودیدوں میں اس کا نام ونشان نہیں بلکہ وہی مورتی پوجا کا پرانا مسلمہ مسئلہ