اصل میں ان کا سار تکبر اور دبدیہ جھوٹا تھا ۔ ان کی عظمت فانی تھی ۔چنانچہ نتیجہ میں دیکھ لو کہ ان کی عظمت وشوکت کہاں گئی ۔
اصل بات یہ ہے کہ سچا رعب اور حقیقی عظمت ان لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو اول خدا کے واسطے اپنے اوپر ایک موت وارد کر لتیے ہیں اور اپنی عظمت اور جلال کو خا کساری سے انکساری سے تواضع سے تبدیل کر تیے ہیں ۔تب چونکہ انہوں نے خدا کے لئے اپنا سب کچھ خرچ کیا ہوتا ہے خدا اُن کو اُٹھاتا ہے اور قدرت نمائی سے ان کو نوازتا ہے ۔ دیکھو تو بھلا اگر حضرت ابو بکر ؓ اور عمر ؓ بھی اپنی پہلی خاندانی بزرگی اور عظمت ہی کو دل میں جگہ دئیے رہتے اور خدا کے لیے وہ اپنا سب کچھ نہ کھو بیٹھتے تو کیا تھے ۔ زیاد ہ سے زیادہ مکہ کے گھڑ پنچ بن جاتے مگر نہیں خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں کے اندرونی حالات کو خلوص سے بھرا پایا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی کسی بزرگی اور عظمت وسطوت کی پروانہ کی بلکہ سب کچھ نثار کر دیا اور خد ا کے لئے فروتن مُتَواضع اور خا کسار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسا نواز ا ۔کیسی عظمت اور جبروت عطا کی ۔ بھلا جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس کا وہم بھی کبھی کسی عرب کے دل میں اس وقت آسکتا تھا ؟ ہر گز نہیں پس سچی عظمت اور سچارعب یہی تھا نہ کہ ابو جہل وغیرہ کا اور یہ سچی باتیں انہی کو دی جاتی ہیں جو پہلے اپنے اُوپر خدا کے لیے ایک موت وارد کر لتیے ہیں ۔
استقامت اور دعا سے کا م لیں
فرمایا :۔
بات دراصل یہ ہے کہ صبر سے کام لینا چائییے ۔ترقی ہو رہی ہے ۔ قبولیت دلوں میں پیدا ہو تی جاتی ہے ۔ اور دنیا کے کناروں تک اب یہ سلسلہ پہنچ چلا ہے ۔ ہمارے پاس بعض ایسے لوگوں کے بھی خط آتے ہیں جن میں سے بعض رؤسائے ریاست بھی ہوتے ہیں اور انہوں نے بیعت بھی نہیں کی ہوتی وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے لیے فلاں امر میں دعا کی جاوے ۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے دل مان گئے ہیں اور اب دیکھو متواتر چھبیس یا ستائیس برس سے ہمارا دعویٰ چلا آرہا ہے اور خدا تعالیٰ اس میں روز بروز ترقی دے رہا ہے ۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس بات کی نظیر نہیں ملتی کہ کسی مفتری علی اللہ کو اس قدر مہلت دی گئی ہو اور ایسی قبولیت اور ترقی عطا کی گئی ہو ۔آسمانی اور زمینی نشان اس کے واسطے بطور شاہد پیدا کئے گئے ہوں ۔آخر ان باتوں کا بھی تو دلوں پر اثر ہو تا ہے ۔ گھبرانا نہیں چاہئیے ۔صبر استقامت اور دعا سے کام لینا چاہئیے۔
حضور کی ذرہ نوازی
سیر سے واپسی پر ایک کسان منگو نام سکینہ بھینی نے سامنے سے آکر سلام مسنون اور مصافحہ کرنے کے بعد عرض کی کہ حضور تھوڑی دیر ٹھہر جاویں میں کچھ گنے نذر کرنا چاہتا ہون ۔ حضور نے فرمایا :۔