۱۰ مارچ ۹۱۰۸؁ء (بوقت سیر ) دینی ضرورت کے لئے چندوں کی ضرورت فرمایا :۔ دینی ضروریات کے انجام دینے کے واسطے چندوں کی ضرورت آنحضرت ﷺ کو بھی پیش آئی تھی ۔دیکھو ہماری جماعت جو اس وقت چار لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہے اگر اس میں صرف دس ہزار آدمی جو خواہ غریب کسان ہی ہوں اور اخلاص سے ضروریات دینی کے واسطے اپنے نفس پر وہ اگر صرف آٹھ آنے ( ۸) ماہوار ہی مقرر کر لیں اور التزام سے ماہوار ادا کرتے رہیں تو پانچ ہزار روپیہ ماہوار کی کافی امداد دینی ضروریات کی انجام وہی کے واسطے پہنچ سکتی اور یہ امر جفا کش محنتی اور دیانیداا وعظوں کے ذریعہ سے اچھی طرح سے پورا ہو سکتا ہے جو لوگوں کو دینی ضروریات سے آگا ہ کرتے رہیں ۔ ؎ فرمایا کہ :۔ سلسلہ خطوط کے دیکھنے سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس قدر لوگوں کے خط ہر روز بیعت کے واسطے آتے ہیں اور یوں بھی کوئی ہفتہ خالی نہیں جاتا کہ دس بیس آدمی بیعت نہ کرتے ہوں ۔ اب اس طرح سے بیعت کے رجسڑوں کی تعداد میں تو روز افزوں ترقی ہے مگر یہ رجسڑ (یعنی باقاعدہ چندہ دہندگان کا ) اپنی اسی حالت پر ہے ۔اس میں کوئی نمایا ں ترقی ہوتی ۔ اصل وجہ یہی ہے کہ لوگو بذریعہ خطوط بیعت کرتے ہیں یا اس جگہ آکر بیعت کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں مگر ان کی ضروریات سلسلہ سے مطلع کرنے کو کوئی کافی ذریعہ نہیں ہے ۔ ہمارے خیال مو لوی فتح دین صاحب بھی اس کام کے واسطے موزون ہیں ۔ آدمی مخلص دیانیدار ہیں اور یوں ان کی کلام بھی موثر ہے ۔ ان کی پنچابی نظم جو اس ملک کی ما دری زبان ہے اور جسے لوگ خوب سمجھتے ہیں وہ بھی اچھی موثر ہے ہمارے خیال میں ان کے ذریعہ سے تبلیغ واشاعت کا کام بھی ہوتا رہے گا ۔ اور چندہ کی وصولی کا بھی باقدہ انتظام ہو جاوے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے خا ص بندوں کو عظمت اور رعب عطا کرتا ہے مولوی فتح دین صاحب کی کسی عرض پر فرمایا :۔ خد ا جب بند ے سے خو ش ہو جاتا ہے تو وہ اپنے بندے کو خود عظمت اور رعب عطا کر دیتا ہے کیونکہ حق کے ساتھ ایک عظمت اور رعب ہوتا ہے ۔ دیکھو ابو جہل وغیرہ جو اس وقت مکہ میں بڑے آدمی بنے ہوئے تھے ۔