کس غربت اور انکساری سے اہل مکہ کے تشدد اور مظالم کا مسلمان نشانہ بنتے رہے تھے کہ آخر ان کی شرارتوں سے تنگ آکر آ پ کو اپنا عزیز وطن بھی چھوڑنا پڑا۔اس زندگی میں ایک مسلمان بیوی کا ایک جگہ خراش واقعہ ہے جو کفار مکہ کے جورو ظلم کا مشتے نمونہ از خروارے است ۔ ہماری فطرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس ظلم کی تفصیل اور تشریح کریں ۔ جنہوں نے وہ واقعہ کتب توایخ میں پڑھا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ کیسا جانکاہ واقعہ ہے ۔
غرض مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا ہے ۔ دفاعی رنگ میں کیا ہے ۔ مقابل لوگوں نے پہلے وہ سارے کام کئے تھے بعد میں مسلمانوں نے کئے ۔جیسا جیسا انہوں نے کیا تھا ویسا ان سے کیا گیا ۔ جَزَآ ہ سیّئۃِ ٌ مِّثلُھَا ( التورٰی:۴۱)
اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے انتظام کے واسطے خدا تعالیٰ نے دو حکومیتں عطا کی گئی تھیں ۔پس شریروں ۔بد معاشوں ۔لیڑوں راہزنوں کو ان کی شرارتوں کی سزا دینی ملک میں امن قائم کرنے کے واسطے ضروری تھی ۔ مدینہ کے لوگوں نے آپ ؑ کو اس وقت اپنا ظاہری بادشاہ بھی مان لیا تھا ۔اکثر مقامات کے فیصلے آپ ؑ سے ہی کراتے تھے ۔ چنانچہ ایک مقدمہ ایک مسلمان اور یہودی کا تھا ۔ آپ ؑ نے یہودی کو اس میں ڈگری دی تھی ۔بعض وقت آپ نے کفار کے جرائم انکو معاف بھی کئے اور بعض رسوم بد کو آپ نے مقابلہ میں بھی ترک کر دیا ہے ۔چنانچہ کفار مکہ لڑائی میں مسلمان مردوں کی بے حرمتی کیا کرتے تھے ۔ ناک کان کاٹ لیے جاتے تھے مگر آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو اس رسم بد کے ترک کر دینے کا حکم دیا تھا ۔
غرض ان معترضوں کو دونوں آنکھوں سے کام لینا چاہئیے ۔دو آنکھوں کے ہوتے کا نے کیوں بنتے ہیں ؟ کفار مکہ کے مظالم کو پہلے مطالعہ کریں ۔ پھر مسلمانوں کی اگر کوئی زیادتی ثابت ہو تو ان کو حق ہے ۔ مسلمانوں کے تمام جنگ اور کفار کے ساتھ تمام سلوک دفاعی رنگ میں ہیں ۔ ابتداء ہرگز ہرگز مسلمانوں نے کبھی نہیں کی ۔اچھا اب دیکھو یہ سر حدی لیڑ جو آئے دن گورنمنٹ کی رعایا کے جان ومال پر حملے کرتے ہیں اور بدامنی پھیلاتے ہیں ۔ تو کیا گورنمنٹ کو چپکے بیٹھے رہنا چاہئے اور ان کی سر کوبی اور سز اکی کوئی مناسب تجویز نہیں کرنی چاہئے ؟ ذرا غور کرو اور سوچو ۔۱؎