۷ مارچ ۱۹۰۸ء
بوقت سیر
تحویل قبلہ کی حقیقت
کسی آریہ کے اس اعتراض پر کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کو خود اپنی وحی اور الہامات پر یقین او ر وثوق نہ تھا اسی واسطے تحویل قبلہ ہوئی ۔
فرمایا کہ :۔
یا نادان لوگ نہیں جانتے کہ تحویل قبلہ اور یہ انقلاب اللہ تعالیٰ نے اس واسطے کرائے کہ تا یہ ظاہر ہو جاوے کہ مسلمان کعبہ پر ست نہیں ہیں۔ ہر دو متبرک مقامات جن کی بزرگی اور عزت کی وجہ سے کبھی کسی زمانے میں کسی کو ان کی پر ستش کا خیال ہو سکتا تھا ان کو پیٹھ کے پیچھے کرا کے اس امر کا اظہار عام طور پر کرا دیا کہ مسلمان واقعی اور حقیقی طور سے خد ا پرست ہیں نہ کعبہ پرست ۔بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں پر حجرا سود کی پر ستش کا الزام دئیے ہی جاتے ہیں ۔ صاف بات ہے کہ عبادت کے لئے انسان کو کسی نہ کسی طرف تو منہ کرنا ہی پڑتا ہے ۔پس ایک شخص تو خود اپنی خواہش سے کسی طرف کو پسند کرتا ہے اور دوسرا حکم الہیٰ سے ایک خاص طرف منہ کرتا ہے ۔بھلا بتاؤ تو سہی ان میں سے کون اچھا ہے ایک تو حکم پرست ہے اور دوسرا نفس پرست ۔بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں کو کعبہ پرست کہتے ہوئے شرماتے کیوں نہیں ؟
پس آنحضرت ﷺ کا تحویل قبلہ کرنا اسی حقیقت پر مبنی تھا کہ مسلمان خاص موجد اور توحید کے پابند ہو جاویں ۔ کعبہ پرستی کا وہم تک بھی ان کے دل سے نکل جاوے نہ کسی تلون اور یقین کی کمی کی وجہ سے جیسا کہ نادان آریوں کا وہم ہے کیونکہ آپ تو صاف کہتے ہیں ۔ قل
اس اعتراض کا جواب کہ مسلمانوں نے جنگوں میں لونڈیاں کیوں بنائیں ؟
ایک دوسرے اعتراض پر کہ مسلمان لوگ جو جنگوں میں لونڈیاں بنا لیا کرتے تھے یہ بڑا ظلم اور وحشت ہے ۔
فرمایا کہ :۔
مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا تھا سب کچھ کفار مکہ کے جو روستم او رظلم وتعدی کے بعد کیا تھا ۔ان کے مظالم کے کارنامے دیکھ کر پھر مسلمانوں پر اعراض کرناچاہئے ۔
بھلا غور کرو کہ مکہ میں آپ کی زندگی کس طرح گذری ہے ۔