۱۶؍جولائی ۱۹۰۶ئ
ڈاکٹر عبدالحکیم :۔
ڈاکٹر عبدالحکم کا ذکر تھا۔ فرمایا:
وہ ہم سے ہی کیا پھرا ہے وہ تو خود اسلام سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی پھر گیا ہے ۔ افسوس تو ان مولویوں اور مسلمانوں پر ہے جو اسلام کا دعویٰ کرکے ایک ایسے آدمی کی حمایت کرتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو بھی ضروری نہیں جانتااور اس کے نزدیک گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کا ہونا نہ ہونا برابر ہے ۔ افسوس ہے کہ ہمارے بغض کے سبب یہ لوگ ایسے کام کرتے ہیں کہ خود ہی اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں۔
چراغ دین :۔
چراغ دین مسیح بنتاتھا۔ عیسائیوں نے اس کی امداد کی ۔ مگر خدا تعالیٰ کے مسیح کے بالمقابل وہ ناکام رہا۔ ہمارا دعویٰ بھی مسیح ہونے کا ہے لیکن ہمارے ساتھ عیسائی لوگ سخت عداوت رکھتے ہیں۔ اور چراغ دین کا دعویٰ بھی مسیح ہونے کا تھا مگر اُس کی امداد اور نصرت میں کھڑے ہوگئے ۔ وجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹا تھا اور یہ بھی جھوٹے ہیں جو انسان کو خدا بناتے ہیں ۔ جھوٹا جھوٹے کا حامی اور ناصر بن جاتاہے ۔ لیکن صادق کا ساتھ صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو راستباز ہوں اور ایسے ہمیشہ تھوڑے ہوتے ہیں۔ ۲؎
بلا تاریخ
خواتین کے لئے خصوصی نصائح:۔
(ایک پرانی تحریر سے اقتباس)
(۱) ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیاپا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوئوں سے لی گئی ہیں۔ جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوئوں کی رسمیں اختیار کر لیں۔ کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ صرف اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہیں ۔ یعنی ہم خدا تعالیٰ کا مال اور ملک ہیں۔ اُسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہوتو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ کرے وہ شیطان سے ہے۔
(۲) دوم برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیاپا