کوئی ثابت نہ کر سکا اور نہ ہی آپ کے معجزات کی قدر و عظمت میں فرق آیا بلکہ روز افزوں ان کی عظمت اور شوکت بڑھتی ہی جاتی ہے اور جوں جوں نئے نئے علوم نکلتے ہیں ۔سائنس اور فلسفہ ترقی کرتا جاتا ہے تو ں توں آپ کی تعلیم کی عظمت اور آپ کے معجزات کی شوکت زیا دہ ہوتی ہے ۔
دیکھو ایک اور بھاری مابہ الامتیاز اللہ تعالیٰ نے یہ قائم کیا ہے ۔ لَو تَقَوَّ لَ عَلَینَا بَعضَ الآ قَاوِیلِ لَا خَذ نَا منہٗ بالیَمِینِ ثُمَّ لَقَطَعنَا منہُ الوَتینَ (الحاقۃ: ۴۵تا۴۸) ( یعنی اگر کوئی شخص تقول علی اللہ کرے تو وہ ہلاک کر دیا جاوے گا ۔ خبر نہیں کیوں اس میں آنحضرت ﷺ ہی کی خصوصیت رکھی جاتی ہے ۔کیا وجہ کہ رسول اللہ ﷺ اگر تقول علی اللہ کریں توا ُن کو تو گرفت کی جاوے اور اگر کوئی اور کرے تو اس کی پروانہ کی جاوے ۔نعوذ باللہ اس طرح سے امان اُٹھ جاتی ہے ۔ صادق اور مفتری میں مابہ الامیتاز ہی نہیں رہتا ۔ اِنَّہٗ مَن یَّاتِ رَبَّہٗ مُجرِ مًا فَانَّ لَہٗ جَھَنَّمَ (طٰہٰ: ۷۵) فَمَن یَّمَل مِثقَالَ ذَرَّۃِِ خیراً یَّرَہٗ وَمَن یَّعمَل مثقَالَ ذَرَّۃِِِ شَرً ّ ایَّرَہٗ ( الزلزال : ۸۔۹) اِنَّہٗ لَا یُفحُ الظَّالِمُونَ ۔ ( الانعام : ۲۲)
ان آیات سے صاف طور پر عموم ظاہر ہو رہا ہے ۔ کوئی خصوصیت نہیں ۔ تو نہ معلوم پھر رسول اللہ ﷺ اگر افتراء علی اللہ کریں تو خدا برا مناتا ہے مگر کوئی اور یہی جرم کر دے تو خیر چنداں ہرج کی بات نہیں ۔ معاذ اللہ
براہین کے زمانہ کو دیکھو جب کہ اس نے خود ریویو بھی لکھا ہے ۔اس سے قسماً پوچھ لو کہ اس وقت میں اکیلا تھا اور اب اس وقت چار لاکھ سے بھی زیادہ آدمی ہمارے ساتھ ہیَ ۔بھلا کبھی مفتری کی بھی اللہ تعالی ایسی نصرت کرتا ہے ؟
پس عام لوگوں کی خوابوں اور انبیاء کی وحی میں اللہ تعالیٰ نے خود مابہ الامیتاز مقر ر کر دئیے ہیں ۔ جنسیت کے لحا ظ سے تو کم وبیش ہر طبقہ کے لو گ شامل ہیں مگر بلحاظ اپنی کیفیت اور کمیت مقدار ونصرت انبیاء ہی کی وحی ممتاز اور قابل اعتبار ہو تی ہے ۔
پھر ہمیں تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے ۔ ہمارا ایمان ہے کہ تشریعی نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی ۔ اب اسی شریعت کی خدمت بذریعہ الہامات مکالمات مخاطبات اور بذیعہ پیشگوئیوں کے کرنے کا ہمار ادعویٰ ہے ۔
مجد صاحب لکھتے ہیں ک یہی خوابیں اور الہامات جو گاہ گاہ انسان کو ہوتے ہیں اگر کثرت سے کسی کو ہوں تو وہ محدث کہلاتا ہے ۔غرض یہ سب کچھ ہم نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں مفصل لکھد یا ہے ۔اس کا مطالعہ کر کے تسلی کر لیں ۔ ۱؎