جنسیت کے لحاظ سے جو اشتراک رکھا گیا ہے وہ بھی صرف اس واسطے کہ تا انسان کو انبیاء کی پاک وحی پر ایمان لانے میں مدد دے ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ تو انبیاہ کی وحی کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ۔ پس مولوی محمد حسین صاحب کو آپ ( جو صاحب پیغام لائے تھے ) کہدیں کہ مولوی ہو کر آپ کے منہ سے کس طرح ایسی باتیں نکلتی ہیں ۔جن سے نعوذ باللہ شان نبوت کا تمسخر اور اسخفاف ہوتا ہے ۔اول تو آپ کا یہ خواب یا الہام جو کچھ بھی ہے تعبیر طلب ہے ۔ دوسرے اگر یہ سچا بھی ہوتو نہ یہ شان نبوت کے لیے اعتراض ہو سکتا ہے ۔ اور نہ ہی آپ اس سے نبی بن سکتے ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایک شخص نے ہمارے مقابلہ میں امر تسر سے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی پیشگوئی کی تھی ۔مگر خدا جانے کیا ہوا وہ موہوم حمل نہ رہا اور ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا غرض آپ کا خواب یا الہام بھی تو ابھی تصدیق طلب ہے مگر جن کے خوابوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان میں سے بعض مشرک اور دہریہ بھی ہیں اور بعض فاسق وفاجر اور چور وزانی ۔ان کو بھی تو آپ کچھ جواب دیں کہ کیا آپ ان کو نبی یا ولی اللہ مان لیں گے ؟ یہاں آنا ہو تو نفسانی غرض سے نہ آؤ بلکہ تحقیق حق کے لیے آؤ ۔اسی تصفیہ کے واسطے آجاؤ کہ خوابیں کفار فُجار کو بھی آجاتی ہیں اور انبیاء کو بھی جنسیت میں دونو مشترک ہیں تو پھر کفار اور انبیاء کی خوابوں اور الہامات میں مابہ الا میتاز کیا ہے ؟ ان میں کوئی معیار بھی خدا تعالیٰ نے رکھا ہے کہ نہیں ؟ یہ ایک دینی کام ہے اس کی تحقیق کے واسطے آ جاؤ ۔ثواب بھی ہے ۔ یاد رکھو کہ قرآن شریف نے ان دونو قسموں میں امتیازی معیار پیشگوئی کو رکھا ہے جو انسانی طاقتوں سے بالا تر اور خا رق عادت رنگ میں ـغیب پر مشتمل ہو ۔ معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کہ موسیٰ کے سوئے کی طرح فوراً دکھا دئیے جاتے ہیں ۔دوسرے علمی رنگ کے معجزات اور غیب پر مشتمل پیشگوئیاں اول الذکر معجزات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان سے دشمنوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں ۔مگر دیر یا اور ہمیشہ کے واسطے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقتی ضرورت کے مناسب حال ہوتے ہیں پچھے آنے والی قوموں کے واسطے وہ کوئی حجت اور دلیل نہیں ہوتے کیونکہ ان میں تدبر وفکر کا انسان کا موقعہ نہیں ملتا ۔مگر خزالذکر معجزات ایسے علمی رنگ میں ہوتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے واسطے اور دیر پا ہوے ہیں ۔انسان جو ں جوں ان میں غور وخوض کرتا ہے توں توں ان کی شوکت اور عظمت بھی بڑھتی جاتی ہے ۔ اور جوں جوں بعد زمانی ہوتا جاتا ہے ۔ان کی ضیاء اور شوکت میں ترقی ہوتی جاتی ہے ۔ان کی عظمت میں فرق نہیں آتا ۔چنانچہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے معجزات اس قسم ثانی کے ہیں ۔دیکھ لو ۔تیرہ سو برس گذر چکے ہیں زمانہ ترقی کے لحا ظ سے معراج پر پہنچ گیا ہے ۔ نئے نئے علوم اور طبیعات نکلے مگر آنحضرت ﷺ کی تعلیم کا کوئی نقص